صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 91
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۹۱ ٧٦ - كتاب الطب لیکن چونکہ علاج کے طور پر بھی داغ دیا جاتا تھا فرمایا کہ آخِرُ الدَّوَاءِ الکی کہ دوا کے طور پر بھی استعمال کرنا پڑے تو آخری علاج کے طور پر داغ کو استعمال کرو۔66 ( تفسیر کبیر، سورة هو وزير آيت يَقْدُمُ قَوْمَهُ يَوْمَ الْقِيمَةِ فَأُورَدَهُمُ النَّارَ۔۔جلد ۳ صفحه ۲۴۸) فَقَامَ آخَرُ فَقَالَ أَمِنْهُمْ أَنَا قَالَ سَبَقَكَ بِهَا عُكَاشَةُ : اس پر ایک دوسرا کھڑا ہوا اور پوچھا: کیا میں بھی ان میں سے ہوں؟ آپ نے فرمایا عکاشہ تم پر سبقت لے گیا۔یہ دوسرے پوچھنے والے کون تھے ؟ شارحین نے حضرت سعد بن عبادہ کا ذکر کیا ہے۔عنوانِ باب کے الفاظ وَفَضْلُ مَنْ لَمْ يَكُتو ( اور اس شخص کی خوبی جو داغ نہ لگوائے۔) اور زیر باب حدیث میں اُن افراد کا ذکر فرمایا گیا ہے کہ جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔یہ وہ لوگ ہیں جو نہ دم کراتے ہیں، نہ بد شگونی لیتے ہیں، نہ داغ لگواتے ہیں۔یعنی محکمات کو حرز جان بنانے والے اور متشابہات سے حزم و احتیاط سے گذرتے ہوئے تقویٰ کی باریک راہوں پر قدم مارنے والے ہوتے ہیں۔قبولیت اور سعادت کے لمحے ایسے لوگوں کو ہی نصیب ہوتے ہیں جسے بادی النظر میں قسمت کا کھیل سمجھا جاتا ہے۔ایسی ساعت سعد نصیب ہو نا بلا شبہ خدا تعالی کا بہت بڑا انعام اور فضل ہے اور یہ اسے ہی نصیب ہوتی ہے جس کے اندر جذب کی وہ کیفیت موجود ہو۔الہی تجلی کا اس سے موافق ہو جانا اس انسان کے بھاگ جگا دیتا ہے۔جیسے آنحضرت نے ایک موقع پر فرمایا مَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ المَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنْبِهِ ، جس کی آمین ملائکہ کی آمین کے موافق ہو گی۔اس کے جو گناہ پہلے ہو چکے ہوں ان کی مغفرت کی جائے گی۔باب ۱۸: الْإِثْمِدُ وَالْكُحْلُ مِنَ الرَّمَدِ آنکھ کے دکھنے کی وجہ سے اصفہانی سرمہ " یا عام سرمہ لگانا اس کے متعلق حضرت ام عطیہ سے روایت ہے۔فِيهِ عَنْ أُمّ عَطِيَّةَ۔٥٧٠٦: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى :۵۷۰۶ مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحییٰ عَنْ شُعْبَةَ قَالَ حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ (بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے شعبہ نَافِعٍ عَنْ زَيْنَبَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ سے، انہوں نے کہا حمید بن نافع نے مجھ سے بیان اللهُ عَنْهَا أَنَّ امْرَأَةً تُوُفِّيَ زَوْجُهَا کیا۔حمید نے حضرت زینب ( بنت ام سلمہ سے، (صحيح بخارى، كتاب الأذان بَاب جَهْرُ الإِمَامِ بِالتَّأْمِينِ) اثمد ایک پتھر ہے جس سے سرمہ تیار ہوتا ہے اور یہ اصفہانی سرمہ کے نام سے مشہور ہے۔(فتح الباری، جزء ۱۰ صفحه ۱۹۵) (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح ، كِتَابُ الْجَنَائِزِ بَابُ غُسْلِ الْمَيِّتِ وَتَكْفِينِهِ، الْفَصْلُ الثَّانِي)