صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 90 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 90

صحیح البخاری جلد ۱۴ 9+ ٧٦ - كتاب الطب اس طریقہ علاج کو آپ نے عمومی طور پر پسند نہیں فرمایا۔جب یہ طریقہ علاج رائج تھا تو داغ لگانا تکلیف دہ تھا۔اب Anaesthesia کی ایجاد سے قریباً سب آپریشن میں Cauterisation سے خون کو بہنے سے روک دیا جاتا ہے۔اور مختلف Cauterisation Techniques سے تکلیف کا عصر قریبا ختم ہو گیا ہے۔لیکن کچھ حد تک اس عمل کے بعد تکلیف رہتی ہے اور اس تکلیف میں جلن اور درد شامل ہے۔آج کل بھی جلد پر داغنے کے عمل کے بعد کچھ مریضوں میں جلد سخت ہو کر ابھر آتی ہے۔جس کو Keloid Formation کہتے ہیں۔یہ اگر چہرے پر ہو تو نہایت بدنما لگتی ہے۔دل کے آپریشن کے بعد چند مریضوں میں Keloid Formation نہایت بد نما اور تکلیف دہ ہوتی ہے اور درد اور انفیکشن اگر ہو جائے تو مزید تکلیف بڑھ جاتی ہے۔جانوروں میں بھی داغ لگانا اب بھی رائج ہے۔خصوصا خچروں کی پیٹھ یا منہ پر داغ لگانا جو فوجی مہمات میں پہاڑی علاقے میں استعمال ہوتے ہیں۔یہ عمل آج کل Cruelty of Animal کے زمرہ میں آتا ہے اور یہی بات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت نا پسند فرمائی۔اور اس رسم کو سختی سے منع فرمایا۔1 حضرت میر محمد اسحاق صاحب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضور داغ دینے اور جراحی کو مفید تو سمجھتے ہیں مگر چونکہ اس میں سخت تکلیف ہوتی ہے لہذا آپ باوجود اس کے مفید ہونے کے اس سے منع کر دیتے ہیں کہ اس میں انسان کو سخت دکھ پہنچتا ہے۔گویا حضور خواہش رکھتے تھے کہ اگر اس علاج سے تڑپ اور تکلیف کی حالت پیدا نہ ہوتی تو یہ بہت مفید علاج تھا۔سو حضور پر نور کی یہ خواہش بھی پوری ہو گئی کہ اللہ تعالیٰ نے کلوروفارم نکالا۔جس کے سونگھا دینے سے انسان ایک قسم کی گہری نیند میں سو جاتا ہے۔اس کے بعد داغ یا جراحی کے طریقہ سے اس کا علاج بھی ہو جاتا ہے اور دکھ درد بھی نہیں ہوتا۔“ (روز نامه الفضل قادیان ۲۰ اگست ۱۹۴۰ صفحه ۴) حضرت مصلح موعود رضی اللہ فرماتے ہیں: ” پرانے زمانہ میں داغ دینے کی رسم ہوا کرتی تھی۔یعنی جانور کے منہ پر یا پہلو میں نشان لگایا کرتے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بہت ناپسند فرمایا۔(1) Dr Asia Sultana and Dr Shabnam Ansari: Research Article: Medical and Scientific Basis of Cauterization (KAI) Int J of Cur Res vol۔8 Issue 05, Pages 31942-31944 (May 2016) http://www۔journalera۔com