صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 87
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۸۷ ۷۶ - كتاب الطب فَاحْلِقْ وَهُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ میرے سر سے جھڑ رہی تھیں۔ آپؐ نے فرمایا: کیا سِتَةَ أَوِ انْسُكْ نَسِيكَةً قَالَ أَيُّوبُ لَا تمہاری جو میں تمہیں تکلیف دے رہی ہیں۔ میں أَدْرِي بِأَيْتِهِنَّ بَدَأَ ۔ نے عرض کیا جی ہاں۔ فرمایا سر منڈوا ڈالو اور تین دن روزے رکھو یا چھ (مسکینوں) کو کھانا کھلاؤ یا ایک بکری قربانی کرو۔ ایوب کہتے تھے : میں نہیں جانتا ان میں سے کس بات کو پہلے فرمایا۔ أطرافه: ١٨١٤، ۱۸۱٥، ۱۸۱۶، ۱۸۱۷، ۱۸۱۸، ۴۱۰۹ ، ۴۱۹۰، ۴۱۹۱ ، ٤٥١۷، ٥٦٦٥، ٦٧٠٨۔ بَاب ۱۷ : مَنِ اكْتَوَى أَوْ كَوَى غَيْرَهُ وَفَضْلُ مَنْ لَمْ يَكْتَوِ جس نے خود داغ لگوایا یا دوسرے کو داغ لگایا اور اس شخص کی خوبی جو داغ نہ لگوائے ٥٧٠٤ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ :۵۷۰۴ : ابو الولید ہشام بن عبد الملک نے ہم سے بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بیان کیا کہ عبد الرحمن بن سلیمان بن غسیل نے بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْغَسِيلِ حَدَّثَنَا عَاصِمُ ہمیں بتایا۔ عاصم بن عمر بن قتادہ نے ہم سے بیان بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا کیا۔ انہوں نے کہا میں نے حضرت جابر سے سنا وہ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے آپ کی دواؤں میں سے اک اگر کسی میں شفا إِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ مِنْ أَدْوِيَتِكُمْ شِفَاءٌ نے فرمایا: تمہاری فَفِي شَرْطَةِ مِحْجَمٍ أَوْ لَذْعَةٍ بِنَارٍ وَمَا ہے تو پچھنے لگانے میں یا آگ سے جھلسانے میں ہے اور میں نہیں پسند کرتا کہ میں داغ لگاؤں۔ أُحِبُّ أَنْ أَكْتَوِيَ۔ أطرافه: ٥٦٨٣، ٥٦٩٧، ٥٧٠٢۔ ٥٧٠٥ : حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ :۵۷۰۵ عمران بن میسرہ نے ہمیں بتایا کہ (محمد) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ عَنْ ابن فضیل نے ہم سے بیان کیا کہ حصین (بن عَامِرٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ عبد الرحمن) نے ہمیں بتایا حصین نے عامر (شعبی) اللهُ عَنْهُمَا قَالَ لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ سے ، عامر نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما أَوْ حُمَةٍ۔ فَذَكَرْتُهُ لِسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ سے روایت کی انہوں نے کہا: دم صرف نظر لگنے