صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 83 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 83

صحیح البخاری جلد ۱۴ Ar ٧٦ - كتاب الطب صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَمَهُ أَبُو طَيْبَةَ متعلق پوچھا گیا ( آیا حلال ہے یا حرام) تو انہوں وَأَعْطَاهُ صَاعَيْنِ مِنْ طَعَامٍ وَكَلَّمَ مَوَالِيَهُ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگوائے فَخَفَّفُوا عَنْهُ وَقَالَ إِنَّ أَمْثَلَ مَا تَدَاوَيْتُمْ تھے۔ابوطیبہ نے آپ کو پچھنے لگائے اور آپ نے بِهِ الْحِجَامَةُ وَالْقُسْطُ الْبَحْرِيُّ۔وَقَالَ لَا اس کو دو صاع اناج دیا اور اس کے مالکوں سے تُعَذِّبُوا صِبْيَانَكُمْ بِالْغَمْزِ مِنَ الْعُذْرَةِ سفارش کی تو انہوں نے محصول کم کر دیا اور فرمایا: وَعَلَيْكُمْ بِالْقُسْطِ۔سب سے بہتر علاج جو تم کرتے ہو پچھنے لگانا ہے اور بحر ہند کی قسط ( یعنی کوٹ) ہے اور فرمایا: تم اپنے بچوں کو حلق کی ورم کی وجہ سے ان کے تالو کو دبا کر تکلیف مت دو اور تم کوٹ کو استعمال کیا کرو۔أطرافه: ۲۱۰۲، ۲۲۱۰، ۲۲۷۷، ۲۲۸۰، ۲۲۸۱- ٥٦٩٧: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ تَلِيدٍ قَالَ ۵۷۹۷ : سعید بن تلید نے ہم سے بیان کیا۔انہوں حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو نے کہا کہ (عبد اللہ بن وہب نے مجھے بتایا۔انہوں وَغَيْرُهُ أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ أَنَّ عَاصِمَ بْنَ نے کہا عمرو بن حارث ) وغیرہ نے مجھے بتایا کہ بکیر عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ جَابِرَ بْنَ نے ان سے بیان کیا کہ عاصم بن عمر بن قتادہ نے عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَادَ الْمُقَنَّعَ انہیں بتایا کہ حضرت جابر بن عبد اللہ (انصاری) ثُمَّ قَالَ لَا أَبْرَحُ حَتَّى يَحْتَجِمَ فَإِنِّي رضی اللہ عنہما نے مقتع ( بن سنان ) کی عیادت کی۔سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ پھر کہا: میں یہاں سے نہیں جاؤں گا جب تک کہ تم پچھنے نہ لگاؤ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ ہم سے وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ فِيهِ شِفَاءً۔أطرافه: ٥٦٨٣ ٥٧٠٢، ٥٧٠٤ سنا۔آپ فرماتے تھے کہ اس میں بھی شفا ہے۔تشریح : الْحِجَامَةُ من الداء: بیماری کی وہ سے پچھنے لگوانا کرم ومحترم پروفیسر ڈاکٹرمحمد مسعود الحسن نوری صاحب ایڈ منسٹریٹر طاہر ہارٹ انسٹیٹیوٹ ربوہ لکھتے ہیں: پچھنے لگوانا (cupping) ایک پرانا طریق علاج ہے۔یہ چین یونان اور مصر میں نہایت مقبول تھا۔چین میں آج کل بھی اس طریق سے علاج کیا جاتا ہے اور نہایت مقبول ہے۔شاید یہ بھی ایک وجہ ہو کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ ارشاد فرمایا کہ علم حاصل کرو چاہے تمہیں چین جانا پڑے۔پچھنے (cupping) لگانا دو طریق سے رائج رہا ہے اول خشک پچھنے لگانا۔(Dry cupping)