صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 82
صحیح البخاری جلد ۱۴ Ar ۷۶ - كتاب الطب امام بخاری نے ترمذی، ابو داؤد اور ابن ماجہ کی ان روایات کی طرف اشارہ کیا ہے جن میں دن اور تاریخ دونوں بیان کیے گئے ہیں۔مثلاً ۱۷، ۱۹ اور ۲۱ تاریخ کو پچھنے لگانا بہتر قرار دیا گیا ہے اسی طرح دنوں میں سے جمعرات، اور سوموار کو بہتر قرار دیا گیا ہے۔جبکہ منگل اور بدھ کو ممانعت کا ذکر ہے کہ ان دنوں میں خون نہیں رکتا وغیرہ۔یہ روایات امام بخاری کے نزدیک قابل قبول نہیں ہیں۔(فتح الباری، جزء ۱۰ صفحہ ۱۸۵) باب ۱۲: الْحَجْمُ فِي السَّفَرِ وَالْإِحْرَامِ قَالَهُ ابْنُ سفر میں یا احرام میں پچھنے لگانا النَّبِيِّ صَلَّى الله حضرت ابن بحینہ نے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔٥٦٩٥ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ :۵۶۹۵: مد د نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عَنْ عَمْرٍو عَنْ طَاوُسٍ وَعَطَاءٍ عَنِ عیینہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عمرو بن دینار) ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ احْتَجَمَ النَّبِيُّ سے عمرو نے طاؤس اور عطاء بن ابی رباح) سے، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ۔ان دونوں نے حضرت ابن عباس سے روایت کی۔انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگوائے اور آپ احرام باندھے ہوئے تھے۔أطرافه: ۱۸۳۵، ۱۹۳۸، ۱۹۳۹، ۲۱۰۳، ۲۲۷۸، ۲۲۷۹ ، ٥٦۹۱، ٥٦٩٤، ٥٦٩٩، ٥٧٠٠ ، ٥٧٠١۔بَابِ ۱۳: الْحِجَامَةُ مِنَ الدَّاءِ بیماری کی وجہ سے پچھنے لگوانا ٥٦٩٦ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِل :۵۶۹۶ محمد بن مقاتل نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عبد الله بن مبارک) نے ہمیں خبر دی کہ حمید طویل عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ نے ہمیں بتایا، حمید نے حضرت انس رضی اللہ عنہ أَجْرِ الْحَجَّامِ فَقَالَ احْتَجَمَ رَسُولُ اللهِ سے روایت کی کہ ان سے حجام کی مزدوری کے (سنن الترمذی، ابواب الطب، باب ما جاء في الحجامة) (سنن ابی داود کتاب الطب، باب متى تستحب الحجامة ) (سنن ابن ماجه، کتاب الطب، باب في أي الأيام يحتجم )