صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 81 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 81

صحیح البخاری جلد ۱۴ Al ٧٦ - كتاب الطب حدیث الباب میں یہ ذکر ہے کہ آنحضرت نے عود ہندی کو سات بیماریوں کا علاج بتایا اور آگے صرف دو کا ذکر ہے۔شارحین نے اس کی مختلف توجیہات کی ہیں۔(۱) یہ کہ آنحضرت نے سات ہی بیان فرمائی ہوں راوی نے دوکا ذکر کیا۔(۲) یہ کہ بقیہ پانچ معروف تھیں اس لیے راوی نے ان دو کا ذکر کیا۔(۳) اور یہ غالباً سب سے درست توجیہہ ہے کہ یہاں سات سے سات کا عد د معین مراد نہیں بلکہ کثرت مراد ہے کیونکہ عربی میں سات کا لفظ کثرت کے لیے استعمال ہوتا ہے اور مراد یہ ہے کہ عود ہندی بہت سی بیماریوں کے لیے شفا ہے اور بطور مثال آپ نے دو کا ذکر فرمایا۔حافظ ابنِ حجر لکھتے ہیں کہ یہ بھی امکان ہے کہ سبعۃ سے علاج کے سات اصول مراد ہوں وہ لکھتے ہیں (i) عود ہندی سے دو بنا کر جسم پر ملی جاتی ہے۔(ii) اس سے سینکائی (یعنی حکور) کی جاتی ہے (iii) پانی میں ڈال کر پیا جاتا ہے۔(iv) اس کے چھینٹے مارے جاتے ہیں۔(v) اس کی دھونی لی جاتی ہے۔(vi) یہ ناک میں ڈالی جاتی ہے۔(vii) منہ میں ڈالی جاتی ہے۔گویا عود ہندی کو مختلف بیماریوں میں سات طریقوں سے استعمال کیا جاتا ہے۔بَاب ۱۱: أَيَّ سَاعَةٍ يَحْتَجِمُ کس وقت پچھنے لگوائے وَاحْتَجَمَ أَبُو مُوسَى لَيْلًا۔(فتح الباری، جزء ۱۰ صفحه ۱۸۴) اور حضرت ابو موسیٰ اشعری) نے رات کو پچھنے لگوائے۔٥٦٩٤ : حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا ۵۶۹۴: ابو معمر (عبد اللہ بن عمر و مقعد) نے ہمیں عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ بتایا کہ ہم سے عبد الوارث (بن سعید ) نے بیان عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ احْتَجَمَ کیا کہ ایوب نے ہمیں بتایا۔ایوب نے عکرمہ سے، النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَکرمہ نے حضرت ابن عباس سے روایت کرتے ہوئے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگوائے صَائِمٌ۔اور آپ روزہ دار تھے۔أطرافه: ۱۸۳۵، ۱۹۳۸، ۱۹۳۹، ۲۱۰۳، ۲۲۷۸، ۲۲۷۹، ٥٦٩۱، ٥٦٩٥ ، ٥٦٩٩ ٥٧٠٠، ٥٧٠١۔۔أتى ساعة يحتجم کس وقت کچنے لگائے جائیں۔امام بخاری نے اس باب میں یہ اشارہ کیا ہے لگانے کا کوئی مخصوص اور معین وقت نہیں ہے جب ضرورت ہو لگائے جاسکتے ہیں اس کی وضاحت کے لیے حضرت ابو موسی کا عمل بیان کیا ہے کہ انہوں نے رات کے وقت کچھنے لگائے اور حضرت ابنِ عباس کی روایت بیان کی ہے کہ آنحضرت نے روزہ کی حالت میں یعنی دن کو پچھنے لگوائے۔امام ابن حجر لکھتے ہیں اس سے