صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 80
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۸۰ ۷۶ - كتاب الطب أَسْوَدُ وَبَحْرِى وَهُوَ أَبْيَضُ وَالْهِنْدِي أَشَدُّ هُمَا حَرَارَةً ( فتح الباری، جزء ۱۰ صفحه ۱۸۳) ابو بکر بن عربی کہتے ہیں کہ قسط کی دو اقسام ہیں ہندی جو کہ سیاہ ہوتی ہے۔ اور بحری جو کہ سفید ہوتی ہے۔ اور ہندی (قسط ) ان دونوں میں سے زیادہ گرم ہے۔ ابن قیم نے بھی یہی بات بیان کی ہے۔ (الطب النبوى لابن القيم ، فصل في ذكر شيء من الأدوية والأغذية، حرف العين، عود، صفحہ ۲۶۰) بعض محققین کے نزدیک مقسط بحری اور قسط ہندی کو الگ الگ سمجھنا غلطی ہے ۔ ان کے نزدیک یہ ایک ہندی دوائی ہے اور اس کے رنگ میں فرق علاقہ کے فرق کی وجہ سے ہے۔ وہ قسط بحری کو سمندر سے منسوب کرنا درست نہیں سمجھتے۔ کیونکہ ان کے نزدیک یہ پورا سمندروں کے کھارے پانی کے پاس نہیں ہو تا بلکہ بلندی اور ٹھنڈک میں پرورش پاتا ہے۔ (طب نبوی اور جدید سائنس، مصنفہ ڈاکٹر خالد غزنوی، جلد اول صفحه ۲۰۹٬۲۰۸) عود ہندی دو قسم کی ہوتی ہے، ایک تو گست ، جو دواؤں میں مستعمل ہے۔ اسے عام طور پر قسط کہتے ہیں اور دوسری قسم کو خوشبو میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کو الالوہ کہتے ہیں۔ اے اسے انگریزی میں Costus ویدک میں پسکارا، اُردو اور ہندی میں قسط ، گست اور میٹھی کوٹ کہتے ہیں۔ اطباء نے لکھا ہے کہ اس کا پودا دو میٹر تک بلند ہوتا ہے اور لیکن یہ عام طور پر گلو، پان وغیرہ کی طرح ایک بیل ہے جو کہ پانچ ہزار فٹ سے زیادہ بلندی پر دریاؤں کے کنارے مرطوب جنگلات میں پایا جاتا ہے۔ کوہ ہمالیہ کی اترائی میں وہاں سے نکلنے والے دریاؤں کے ساتھ ساتھ مسط کے پودے ہندوستان کے شمال مغرب اور شمال مشرق میں کثرت سے پائے جاتے ہیں اس کے پتے بڑے اور دندانے دار شکل کے ہوتے ہیں اس پودے کی جڑیں دواؤں میں استعمال ہوتی ہیں یہ جڑیں ستمبر اور اکتوبر کے درمیان کاٹ کر نکال لی جاتی ہیں۔ پھر ان کے دو دو انچ لمبے ٹکڑے کر لیے جاتے ہیں وہ اسی صورت میں ملٹھی کی طرح سفید گانٹھیں ہیں جو کہ خوشبو دار بھی ہیں۔ آزاد کشمیر میں دریائے جہلم اور دریائے چناب کے کناروں کے ساتھ یہ پودا بڑی کثرت سے پایا جاتا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھئے طب نبوی اور جدید سائنس، مصنفہ ڈاکٹر خالد غزنوی، جلد اول صفحہ ۲۰۴۔ عود ہندی کی وہ قسم جو خوشبو کے لیے استعمال کی جاتی ہے اُسے ”اگر “ بھی کہتے ہیں۔ اس کا عطر عود مشہور ہے۔ حدیث الباب میں جس عود کا ذکر ہے یہ وہ نہیں ہے اسی طرح ایک کُستِ اظفار ہے جس کا ذکر بخاری کتاب الطلاق باب القسط للحادۃ میں آیا ہے وہ بھی ایک خوشبو ہے۔ حدیث الباب میں جس عود کا ذکر ہے یہ وہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک مفید جڑی بوٹی ہے جسے ”کوٹ“ کہتے ہیں۔ بحری اسے اس لیے کہتے ہیں کہ یہ دوسرے علاقوں سے بحری اور سمندری راستے سے عرب میں پہنچتی تھی۔ (ارشاد الساری للقسطلانی، جزء ۸ صفحه ۳۶۷) امام ابن حجر لکھتے ہیں اطباء نے عود ہندی کے کئی فوائد لکھے ہیں مثلاً یہ ہیں کہ یہ حیض اور پیشاب کو جاری کرتی ہے انتڑیوں کے کیڑوں کو مارتی ہے زہر یلے مادوں کو ختم کرتی ہے معدہ کو گرم رکھتی ہے ، قوت باہ کو بڑھاتی ہے اور چھائیوں کے داغ ختم کرتی ہے۔ ( فتح الباری، جزء ۱۰ صفحه ۱۸۴) (مسلم، كتاب الالفاظ من الادب وغيرها، باب استعمال المسك ۔۔۔۔ إِذَا اسْتَجْمَرَ اسْتَجْمَرَ بِالْأَلُوَّةِ)