صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 79
صحیح البخاری جلد ۱۴ وَهُوَ 29 باب ۱۰: السَّعُوطُ بِالْقُسْطِ الْهِنْدِي وَالْبَحْرِي ۷۶ - كتاب الطب قسط ہندی (یعنی کوٹ) اور قسط بحری (یعنی جو سمند ر سے نکلتا ہے) کو ناک میں لیتا الْكُسْتُ مِثْلُ الْكَافُورِ وَالْقَافُورِ اور گشت بھی یہی ہے۔جیسے کافور اور قَافُوریا وَمِثْلُ كشطَتُ (التكوير : ۱۲) وَقُشِطَتْ جیسے كُشِطَتْ اور قُشِطَتْ کے الفاظ ہیں جس تُزِعَتْ وَقَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ قُشِطَتْ۔کے معنی ہیں چھلکا اُتارا گیا۔اور حضرت عبد اللہ (بن مسعود) نے قُشِطَتْ پڑھا۔٥٦٩٢: حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ ۵۷۹۲ صدقہ بن فضل نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ قَالَ سَمِعْتُ (سفیان بن عیینہ نے ہمیں خبر دی۔انہوں نے الزُّهْرِيَّ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ عَنْ أُمِّ قَيْسٍ کہا میں نے زہری سے سنا۔زہری نے عبید اللہ بِنْتِ مِحْصَنِ قَالَتْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ بن عبد اللہ ) سے، عبید اللہ نے حضرت اُم قیس صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَيْكُمْ بنت محصن سے روایت کی وہ کہتی تھیں۔میں نے بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِي فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے: اس أَشْفِيَةٍ يُسْتَعَطُ بِهِ مِنَ الْعُذْرَةِ وَيُلَدُّ بِهِ هندی عود ( یعنی کوٹ) کو ضرور استعمال کرو کیونکہ اس میں سات علاج ہیں۔حلق کے ورم میں اس مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ۔أطرافه: ۵۷۱۳، ۵۷۱۵، ۵۷۱۸ کو ناک میں ڈالا جاتا ہے۔اور ذات الجنب میں حلق میں ڈالی جاتی ہے ٥٦٩٣ : وَدَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ ۵۶۹۳: اور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنِ لِي لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ اپنے ایک بیٹے کو لے کر گئی جو ابھی کھانا نہیں کھاتا فَبَالَ عَلَيْهِ فَدَعَا بِمَاءٍ فَرَسٌ عَلَيْهِ۔تھا اس نے آپ پر پیشاب کر دیا۔آپ نے پانی منگوایا اور اس کو کپڑے پر چھڑک دیا۔طرفه: ۲۲۳۔تشريح : السَّعُوطُ بِالْقُسْطِ الْهِنْدِقِ وَالْبَحْرِي : ہندی قسط ( یعنی گوٹ) اور قسط بحری ( یعنی جو سمندر سے نکلتا ہے ) اس کو ناک میں لینا۔قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْعَرَبِ الْقُسْطُ تَوْعَانِ هِنْدِيٌّ وَهُوَ