صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 78
صحیح البخاری جلد ۱۴ ٧٦ - كتاب الطب ٥٦٩٠: حَدَّثَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي ۵۶۹۰: فروہ بن ابی المغراء نے ہم سے بیان کیا کہ الْمَغْرَاءِ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ على بن مسہر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ہشام (بن هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا عروہ) سے ، ہشام نے اپنے باپ سے ، ان کے باپ كَانَتْ تَأْمُرُ بِالتَّلْبِينَةِ وَتَقُولُ هُوَ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی کہ وہ تلبینہ کھلانے کا مشورہ دیتی تھیں اور فرماتی تھیں کہ وہ الْبَغِيضُ النَّافِعُ۔أطرافه: ٥٤١٧، ٥٦٨٩- رح : بیمار کو نا پسند ہوتا ہے اور فائدہ دیتا ہے۔التَّلْبِينَةُ لِلْمَرِيضِ : بہار کو تلبینہ کھلانا۔لغت میں اس کے متعلق لکھا ہے: حسال يُعمل من دقيق أو نخالة، ورتما جُعِل فيها عسل، سميت به تشبيهاً باللبن لبياضها ورقتها (النهاية في غريب الحديث والأثر ، لین) یہ آٹے یا چھان سے بنایا جانے والا حریرہ ہے۔اور کبھی اس میں شہد بھی ملا دیتے ہیں۔اسے تلبینہ کا نام اپنے سفید رنگ اور پتلے پن میں دودھ کے مشابہ ہونے کی وجہ سے دیا گیا ہے۔یہ دودھ، ، شہد اور جو یا گندم کے آٹے یا چھان سے بنایا جاتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تلبینہ مریض کے دل کو راحت پہنچاتا ہے اور غم کو دور کرتا ہے۔مریض عام طور پر اپنے منہ کے ذائقہ کی وجہ سے اسے پسند نہیں کرتا مگر یہ انتہائی مفید ہے۔بَاب ٩ : السَّعُوطُ ناک میں دوائی ڈالنا :٥ حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا :۵۶۹۱ معلی بن اسد نے ہم سے بیان کیا کہ وہیب وُهَيْبٌ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ بن خالد ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے (عبد اللہ ) ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ بن طاؤس سے ، عبد اللہ نے اپنے باپ سے، ان النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ کے باپ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ وَاسْتَعَطَ۔روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگوائے اور حجام کو اس کی مزدوری دی اور ناک میں دوائی ڈالی۔أطرافه: ۱۸۳۵، ۱۹۳۸، ۱۹۳۹، ۲۱۰۳، ۲۲۷۸ ، ،۲۲۷۹ ، ٥٦٩٤، ٥٦٩٥ ٥٦٩٩ ٥٧٠٠، ٥٧٠١۔