صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 77 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 77

صحیح البخاری جلد ۱۴ ٧٦ - كتاب الطب سے آشنا تھے اور جالینوس کے متعدد نسخوں میں کلونجی کو شہد یا سر کہ میں ملا کر استعمال کیا گیا ہے۔یہ مفروضہ درست نہیں کہ عرب اطباء نے اس کا استعمال یونانیوں سے سیکھا کیونکہ مشرق وسطی کے اطباء نے اسلام کی آمد سے پہلے اس کا کہیں ذکر نہیں کیا۔اس کا استعمال اسلام کی آمد کے بعد شروع ہوا، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے شفاء کا مظہر قرار دیا۔انسانی جسم کے لیے نہایت مفید ہے۔اطباء اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ کلونجھی بہت سی بیماریوں کا علاج ہے۔ذیا بیطس، دمہ ، پھیپھڑے، پیٹ، اعصاب، قوتِ حافظہ، جلدی امراض دانتوں کی تکلیف، نزلہ زکام، بالوں اور اس کے علاوہ بھی بہت سی بیماریوں کے لیے نہایت مفید ہے۔بعض بیماریوں میں اسے شہد کے ساتھ بھی استعمال کیا جاتا ہے۔اس کے استعمال میں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اس کا مسلسل استعمال صحت کے لیے نقصان دہ بھی ہو سکتا ہے۔اس لیے اس میں کچھ دنوں کا وقفہ ڈالنا ضروری ہے۔معروف حکیم ابن سیناء نے اپنی کتاب القانون میں کلونجی کے بہت سے فوائد بیان کیے ہیں۔وہ لکھتے ہیں۔یہ بلغم ختم کرتی ہے۔نفخ شکم کے لیے مفید ہے جسم پر نکلنے والے تیل، داغ دھبے اور برص کے نشانات کو ختم کرتی ہے۔اسے سرکہ میں ڈال کر سونگھا جائے تو سر درد کا بہترین علاج ہے دانتوں کے درد میں مفید ہے۔القانون لابن سیناء، جلد اول، صفحه ۴۳۷) بَاب : التَّلْبِينَةُ لِلْمَرِيضِ بیمار کو تلبینہ کھلانا ٥٦٨٩: حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى :۵۶۸۹ حیان بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عبد الله بن مبارک) نے ہمیں خبر دی کہ یونس يَزِيدَ عَنْ عُقَيْلٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ بن یزید نے ہمیں بتایا، یونس نے عقیل سے عقیل عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عروہ سے، أَنَّهَا كَانَتْ تَأْمُرُ بِالتَّلْبِينِ لِلْمَرِيضِ عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت وَلِلْمَحْرُونِ عَلَى الْهَالِكِ وَكَانَتْ کی کہ وہ بیمار کو اور اس شخص کو جو مرنے والے پر تَقُولُ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى غمزدہ ہو تلبینہ کھلانے کا مشورہ دیتی تھیں اور کہتی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ التَّلْبِينَةَ تھیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تُجِمُّ فُؤَادَ الْمَرِيضِ وَتَذْهَبُ بِبَعْضٍ آپ فرماتے تھے کہ تلبینہ بیمار کے دل کو تقویت دیتا ہے اور کسی قدر رنج کو دور کر دیتا ہے۔الْحُزْنِ۔أطرافه: ٥٤١٧، ٥٦٩٠ -