صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 75 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 75

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۷۵ ۷۶ - كتاب الطب ڈاکٹر یا حکیم کے مشورہ سے شراب دوا کے طور پر استعمال کر لی جائے تو کیا حرج ہے جبکہ کتا اور سور شراب سے ہزار ہا درجہ زیادہ ناپاک ہیں۔حقیقت یہی ہے که اگر مریض کی جان جانے کا خطرہ ہو تو ڈاکٹر کے مشورہ سے ایسی چیز بھی استعمال کی جاسکتی ہے جو حلال نہ ہو۔“ (روز نامہ الفضل قادیان دارالامان، مورخه ۲ فروری ۱۹۴۰، صفحه ۳) کچھ لوگ اس حدیث کو ہندوؤں میں رائج گائے کے پیشاب پینے سے ملاتے ہیں حالانکہ ہندووں کا گائے کا پیشاب پینا گائے کے تقدس کے طور پر ہے نہ کہ کسی خاص بیماری کی وجہ سے۔اسلام میں نہ تو اونٹ کو مقدس جانور سمجھا جاتا ہے نہ اس کا پیشاب بابرکت سمجھ کر ہر چیز پر چھڑکنے کا کوئی تصور ہے نہ اس کا تعلق عبادت اور شعائر دین سے ہے۔حدیث میں اونٹ کے پیشاب کا استعمال محض ایک دوا کے طور پر کرایا گیا اس سے بڑھ کر کچھ نہیں۔بغرض علاج بھی لازم قرار نہیں دیا گیا جس کی طبیعت مائل نہ ہو وہ نہ ہے۔اس کو کسی کے لیے لازم قرار نہیں دیا اور نہ ہی اس پر عمل نہ کرنے والے کے لیے کوئی وعید سنائی، اور نہ ہی کسی اور کو یہ علاج بتایا، نہ اس طریقہ علاج کو کبھی سنت سمجھا گیا۔بَاب : الْحَبَّةُ السَّوْدَاءُ کلونجی :٥٦٨٧: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ :۵۶۸۷ عبد اللہ بن ابی شیبہ نے مجھے بتایا کہ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ عبد الله بن موسیٰ کوفی) نے ہم سے بیان کیا۔مَنْصُورٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ خَرَجْنَا اسرائیل ( بن یونس) نے ہمیں بتایا۔اسرائیل وَمَعَنَا غَالِبُ بْنُ أَبْجَرَ فَمَرِضَ فِي نے منصور بن معتمر) سے ، منصور نے خالد بن سعد الطَّرِيقِ فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَهُوَ مَرِيضٌ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: ہم سفر میں نکلے فَعَادَهُ ابْنُ أَبِي عَتِيقٍ فَقَالَ لَنَا عَلَيْكُمْ اور ہمارے ساتھ غالب بن ابجر بھی تھے تو وہ بِهَذِهِ الْحُبَيْبَةِ السَّوْدَاءِ فَخُذُوا مِنْهَا راستے میں بیمار ہو گئے۔ہم مدینہ پہنچے تو وہ ابھی خَمْسًا أَوْ سَبْعًا فَاسْحَقُوهَا ثُمَّ اقْطُرُوهَا بیمار ہی تھے (عبد اللہ بن ابی عقیق ان کی عیادت فِي أَنْفِهِ بِقَطَرَاتِ زَيْتٍ فِي هَذَا الْجَانِبِ کو آئے تو انہوں نے ہم سے کہا: تم یہ کلونجی وَفِي هَذَا الْجَانِبِ فَإِنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ استعمال کرو۔یہ پانچ یا سات (دانے) لے کر ان یہ اللهُ عَنْهَا حَدَّثَتْنِي أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ کو پیس لو۔پھر زیتون کے تیل کے چند قطروں میں