صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 576 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 576

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۵۷۶ ۷۴ - كتاب الأشربة أَهْلِ الْوُضُوءِ الْبَرَكَةُ مِنَ اللَّهِ فَلَقَدْ اور اپنی انگلیاں کھول دیں پھر فرمایا: وضو کرنے رَأَيْتُ الْمَاءَ يَتَفَجَّرُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ والو چلے آؤ! اللہ سے برکت ہو گئی۔ میں نے پانی فَتَوَضَّأَ النَّاسُ وَشَرِبُوا فَجَعَلْتُ لا کو دیکھا کہ آپؐ کی انگلیوں کے درمیان سے آلُوا مَا جَعَلْتُ فِي بَطْنِي مِنْهُ پھوٹ پھوٹ کر بہہ رہا تھا۔ لوگوں نے وضو کیا اور فَعَلِمْتُ أَنَّهُ بَرَكَةٌ۔ قُلْتُ لِجَابِرٍ كَمْ پیا۔ میں نے بھی اپنے پیٹ میں اس کو ڈالنے میں كُنْتُمْ يَوْمَئِذٍ قَالَ أَلْفٌ وَأَرْبَعَ مِائَةٍ۔ کمی نہیں کی کیونکہ میں سمجھتا تھا کہ وہ برکت ہے۔ تَابَعَهُ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ جَابِرٍ میں نے حضرت جابر سے پوچھا: آپ لوگ اس وَقَالَ حُصَيْنٌ وَعَمْرُو بْنُ مُرَّةَ عَنْ دن کتنے تھے ؟ انہوں نے کہا: ایک ہزار چار سو۔ سَالِمٍ عَنْ جَابِرٍ خَمْسَ عَشْرَةَ مِائَةً۔ (سالم کی طرح) اس حدیث کو عمرو بن دینار نے بھی حضرت جابرؓ سے روایت کیا۔ اور حسین اور وَتَابَعَهُ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ عَنْ جَابِرٍ۔ عمرو بن مرہ نے بھی سالم سے نقل کیا۔ سالم نے حضرت جابر سے، انہوں نے کہا: پندرہ سو آدمی تھے۔ (اور سالم کی طرح) سعید بن مسیب نے بھی حضرت جابر سے یہی روایت کی ہے۔ أطرافه : ٣٥٧٦، ٤١٥٢ ، ٤١٥٣، ٤١٥٤، ٤٨٤٠۔ رم تشريح : شُرْبُ الْبَرَكَةِ وَالْمَاءِ الْمُبَارك: تبرک اور وہ پانی جس پر برکت کی دعاکی گئی ہو پیا۔ ہوئے فرماتے ہیں: حضرت مسیح موعود علیہ السلام خدا کے پیاروں اور برگزیدہ بندوں کی برکات و فیوض کا ذکر کرتے " ومن علاماتهم أن الله يجعل بركات في بيوتهم وثيابهم وفي عمائمهم وتمصهم وجلبابهم وفى شفاههم وأيديهم وأصلابهم، وكذالك في جميع آرابهم وفى حتامتهم والثمد الذي يبقى بعد تشرابهم، ويكون معهم عند هونهم وعند اجلعبابهم، ويُجيب دعواتهم فلا يخطى ما يُرمى من جعابهم، ولا يمسهم فقر ويدخل بأيديه مالاً في جرابهم، يُكرمهم عند مشيبهم أزيد مما كان يُكرم في عدان شبابهم، ويخلق فيهم جذباً قويا ويرجع خلقا كثيرًا إلى جنابهم۔" ( علامات المقربین، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۱۱۰)