صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 574
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۵۷۴ ۷۴ - كتاب الأشربة قَدْ أَعَذْتُكِ مِنِّي فَقَالُوْا لَهَا أَتَدْرِيْنَ ہے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بات مَنْ هَذَا قَالَتْ لَا قَالُوا هَذَا رَسُوْلُ کی تو کہنے لگی: میں آپ سے اللہ کی پناہ لیتی ہوں۔ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ آپ نے فرمایا: میں نے تمہیں اپنے سے پناہ دی۔ لِيَخْطُبَكِ قَالَتْ كُنْتُ أَنَا أَشْقَى مِنْ لوگوں نے اس سے کہا: کیا تم جانتی ہو کہ یہ کون ذَلِكَ فَأَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ ہیں؟ اس نے کہا: نہیں۔ لوگوں نے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو تمہیں پیام نکاح وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ حَتَّى جَلَسَ فِي سَقِيفَةِ دینے آئے تھے۔ وہ کہنے لگی: تب تو میں اس بَنِي سَاعِدَةَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ ثُمَّ قَالَ سعادت سے بد نصیب رہی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسْقِنَا يَا سَهْلُ فَخَرَجْتُ لَهُمْ هَذَا اور آپ کے صحابہ اس دن آئے اور بنو ساعدہ کے الْقَدَحَ فَأَسْقَيْتُهُمْ فِيْهِ فَأَخْرَجَ لَنَا منڈوے میں بیٹھ گئے پھر فرمایا: سہل ہمیں پانی سَهْلٌ ذَلِكَ الْقَدَحَ فَشَرِبْنَا مِنْهُ قَالَ پلاؤ۔ تو میں ان کے لئے یہ پیالہ لایا اور اس میں ثُمَّ اسْتَوْهَبَهُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ میں نے ان کو پانی پلایا۔ یہ کہہ کر حضرت سہل نے بَعْدَ ذَلِكَ فَوَهَبَهُ لَهُ۔ ہمارے لئے وہ پیالہ نکالا اور ہم نے اس سے پیا۔ ابو حازم کہتے تھے کہ پھر اس کے بعد عمر بن عبد العزیز نے وہ پیالہ ان سے مانگا اور حضرت سہل نے وہ انہیں دے دیا۔ طرفه: ٥٢٥٦ ٥٦٣٨: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُدْرِكَ ۵۷۳۸ : حسن بن مدرک نے ہمیں بتایا۔ انہوں قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ أَخْبَرَنَا نے کہا کہ یحییٰ بن حماد نے مجھ سے بیان کیا۔ أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَاصِمِ الْأَحْوَلِ قَالَ ابو عوانہ نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے عاصم احول رَأَيْتُ قَدَحَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت وَسَلَّمَ عِنْدَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَكَانَ قَدْ انس بن مالک کے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پیالہ انْصَدَعَ فَسَلْسَلَهُ بِفِضَّةٍ قَالَ وَهُوَ دیکھا اور وہ نرخ گیا تھا تو انہوں نے اس کو چاندی قَدَحْ جَيِّدٌ عَرِيْضٌ مِنْ نُصَارٍ قَالَ کی تار سے جوڑ لیا تھا۔ عاصم کہتے تھے اور وہ پیالہ