صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 561
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۵۶۱ ۷۴ - كتاب الأشربة ام بَاب ۲۰ : الْكَرْعُ فِي الْحَوْضِ حوض میں منہ لگا کر پانی پینا ٥٦٢١: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ ۵۲۲۱: يحي بن صالح نے ہم سے بیان کیا کہ فلیح حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ سَعِيدِ بن سلیمان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سعید بن بْنِ الْحَارِثِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ حارث سے، سعید نے حضرت جابر بن عبد اللہ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى رَجُلٍ مِنَ ایک انصاری شخص کے ہاں گئے اور آپ کے ساتھ الْأَنْصَارِ وَمَعَهُ صَاحِبٌ لَهُ فَسَلَّمَ آپ کا ایک ساتھی بھی تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے ساتھی نے السلام علیکم کہا۔ اس النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَاحِبُهُ شخص نے جواب دیا اور کہنے لگا: یا رسول الله ! فَرَدَّ الرَّجُلُ فَقَالَ يَا رَسُوْلَ اللهِ بِأَبِي میرے ماں باپ آپ پر قربان۔ یہ تو ایسی گھڑی أَنْتَ وَأُمِّي وَهِيَ سَاعَةٌ حَارَّةٌ وَهُوَ ہے کہ جس میں شدت کی گرمی ہے اور وہ اس وقت يُحَوِّلُ فِي حَائِطٍ لَهُ يَعْنِي الْمَاءَ اپنے ایک باغ میں پانی لگا رہا تھا۔ نبی صلی اللہ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہارے پاس کچھ پانی ہو جو كَانَ عِنْدَكَ مَاءً بَاتَ فِي شَنَّةٍ وَإِلَّا ملک میں رات کو رہا ہو ورنہ ہم یہیں سے منہ لگا كَرَعْنَا وَالرَّجُلُ يُحَوِّلُ الْمَاءَ فِي کر پانی پی لیتے ہیں۔ اور وہ شخص ایک باغ میں پانی حَائِطٍ فَقَالَ الرَّجُلُ يَا رَسُوْلَ اللهِ لگا رہا تھا تو اس شخص نے کہا: یا رسول اللہ ! میرے عِنْدِي مَاءً بَاتَ فِي شَنَّةٍ فَانْطَلَقَ إِلَى پاس ایسا پانی ہے جو رات کو مشک میں رہا ہے۔ یہ الْعَرِيْشِ فَسَكَبَ فِي قَدَحٍ مَاءً ثُمَّ کہہ کر وہ ایک جھونپڑی کی طرف چلا گیا اور اس حَلَبَ عَلَيْهِ مِنْ دَاجِنٍ لَهُ فَشَرِبَ نے ایک پیالے میں پانی ڈالا پھر اپنے گھر کی پہلی النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَعَادَ ہوئی بکری سے اس پر دودھ دوہا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پیا۔ پھر دوبارہ پیا۔ پھر اس فَشَرِبَ الرَّجُلُ الَّذِي جَاءَ مَعَهُ۔ شخص نے بھی پیا جو آپ کے ساتھ آیا تھا۔ طرفه: ٠٥٦١٣