صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 544
البخاری جلد ۱۳ ۵۴۴ ۷۴ - كتاب الأشربة تشریح : تَرْخِيْصُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَوْعِيَة۔۔: منع کرنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ان برتنوں اور ظروف میں نبیذ بنانے کی اجازت دینا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”حدیثوں میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عبد القیس کا جور بیعہ قبیلہ کا ایک حصہ تھا ایک وفد آیا اور انہوں نے اسلام قبول کیا اور آپ سے چلتے وقت کچھ نصائح کی درخواست کی۔اس پر آپ نے اُن کو جہاں بعض اور نصیحتیں کیں وہاں یہ بھی فرمایا کہ تم سبز روغن کئے ہوئے برتن اور سوکھے کدو کے بنے ہوئے پیالے اور لکڑی کے کھود کر بنائے ہوئے برتن اور وہ بر تن جن پر لگ لگایا گیا ہو استعمال نہ کیا کرو۔اس کی وجہ درحقیقت یہ تھی کہ وہ لوگ ان چار برتنوں میں شراب بناتے تھے۔آپ نے اُن کی شراب کی عادت کا اندازہ لگا کر یہ فیصلہ فرمایا کہ اگر یہ بر تن ان کے سامنے آتے رہے تو پھر شہر اب بنانے لگ جائیں گے اور شراب پینے لگ جائیں گے اس لئے بہتر ہے کہ اس سے ان کو کلی طور پر روک دوں۔جب کچھ عرصہ بعد ان کی وہ عادت دُور ہو گئی تو آپ نے اس حکم کو بدل دیا۔چنانچہ اب سارے مسلمان ان برتنوں کو استعمال کرتے ہیں کیا حنفی اور کیا وہابی اور کیا شافعی اور کوئی بھی ان سے منع نہیں کرتا۔اور علمائے حدیث اور فقہ یہی لکھتے ہیں کہ ان لوگوں کی شراب کی عادت چھڑوانے کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گلی مناہی کا حکم دے دیا تھا جو بعد میں آپ نے منسوخ فرما دیا۔“ اسلام اور ملکیت زمین، انوار العلوم جلد ۲۱ صفحہ ۴۶۸٬۴۶۷) باب ۹: نَقِيْعُ التَّمْرِ مَا لَمْ يُسْكِرْ کھجور کا شربت جب تک وہ نشہ آور نہ ہو ٥٥٩٧ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ۵۵۹۷: یحییٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ یعقوب حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بن عبد الرحمن قاری نے ہمیں بتایا۔انہوں نے الْقَارِيُّ عَنْ أَبِي حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ ابو حازم سے، ابوحازم نے کہا: میں نے حضرت سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ أَنَّ أَبَا أُسَيْدٍ سهل بن سعد ساعدی سے سنا کہ حضرت ابواسید