صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 26 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 26

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۲۶ ۶۷ - كتاب النكاح قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَتِلْكَ أُمَّكُمْ يَا بَنِي حضرت سارہ تھیں۔انہوں نے سارا واقعہ بیان کیا مَاءِ السَّمَاءِ۔(اور کہا: بادشاہ نے حضرت سارہ کو حضرت ہاجرہ دی۔حضرت سارہ نے (حضرت ابراہیم سے ) کہا: اللہ نے کافر کا ہاتھ روکا اور آجر خدمت کے لئے دلوائی۔حضرت ابو ہریرہ نے کہا: اے آسمان کے پانی کے بیٹو! یہی تمہاری ماں ہے۔أطرافه ،۲۲۱۷، ٢٦٣٥، ٣٣٥٧، ٣٣٥٨، ٦٩٥٠۔٥٠٨٥ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ :۵۰۸۵: قتیبہ بن سعید ) نے ہم سے بیان کیا کہ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اسماعيل بن جعفر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے محمید اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى الله سے حمید نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ خَيْبَرَ وَالْمَدِينَةِ ثَلَاثًا نے خیبر اور مدینہ کے درمیان تین دن قیام کیا کہ يُبْنَى عَلَيْهِ بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَةٍ فَدَعَوْتُ حضرت صفیہ بنت حی کو آپ کے ہاں رخصت الْمُسْلِمِينَ إِلَى وَلِيمَتِهِ فَمَا كَانَ فِيهَا کیا جائے۔پھر میں نے مسلمانوں کو آپ کے ولیمہ مِنْ خُبْرٍ وَّلَا لَحْمٍ أُمِرَ بِالْأَنْطَاعِ فَأَلْقَى کی دعوت دی۔اس میں نہ روٹی تھی نہ گوشت۔ا حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب فرماتے ہیں: ” ارض القرآن کے مصنف سلیمان ندوی مرحوم نے کتاب پیدائش باب ۱۶ کی شرح کا حوالہ نقل کیا ہے جس کا شارح ایک یہودی عالم ربی شلو ملو الحق ہے۔اس نے لکھا ہے کہ شاہ مصر نے حضرت سارہ کی وجہ سے کرامات دیکھیں تو کہا: میری بیٹی کا اس کے گھر میں لونڈی ہو کر رہنا دوسرے گھر میں ملکہ ہو کر رہنے سے بہتر ہے۔(ارض القرآن ، ہاجرہ - ج ۲ صفحه (۴) حضرت ہاجرہ علیہا السلام لونڈی نہ تھیں۔بلکہ مصری شاہی خاندان کی بیٹی تھیں جنہوں نے ایک اور اسرائیلی روایت کے مطابق حضرت سارہ علیہا السلام کے گھر میں ان کے تقویٰ و تقدس اور خدا پرستی کی وجہ سے بطور لونڈی رہنا خود پسند کیا۔(The Jewish Encyclopedia, under word:Hagar, In Rebbinical Literature) دونوں روایتوں کا ملخص یہی ہے کہ حضرت ہاجرہ علیہا السلام حسب و نسب میں شریف زادی تھیں لونڈی نہ تھیں۔جس کی تصدیق حضرت ابو ہریرۃ والی روایت سے بھی ہوتی ہے۔چنانچہ بعض شارحین نے فقرہ تِلْكَ أُمُكُمْ يَأْتِي مَاءِ السَّمَاءِ کے یہ معنی کئے ہیں کہ نسب کے لحاظ سے تم ایسے ہی خالص ہو جیسے آسمان کا پانی۔“ ( صحیح بخاری ترجمه و شرح، کتاب احادیث الانبیاء، باب ۱۰، جلد ۶ صفحه ۲۶۳)