صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 480 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 480

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۴۸۰ -۷۲- - كتاب الذبائح والصيد تشریح: جُلُودُ المَيْتة: مردار کی کھالیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”میرے نزدیک سور کی تخم یعنی چربی جائز نہیں اور اس کی دلیل میرے پاس یہ ہے کہ نبی کریم صلعم نے فرمایا ہے کہ مردہ جانور کی چربی حرام ہے۔اور سور کی حرمت اور مردہ کی حرمت ایک ہی آیت میں اور ایک ہی الفاظ میں بیان کی گئی ہے۔پس دونوں کا حکم ایک قسم کا سمجھا جائے گا لیکن سور کی جلد کا استعمال جائز ہو گا کیونکہ وہ کھائی نہیں جاتی۔احادیث میں ایک واقعہ بیان کیا گیا ہے کہ حضرت ام سلمی رضی اللہ عنہا کی ایک بکری مرگئی۔چند آدمی اس کو اٹھا کر باہر لئے جارہے تھے۔نبی کریم صلعم نے ان سے فرمایا کہ تم اس کا چھڑا کیوں نہیں اتار لیتے ؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ تو میتہ ہے۔آپ نے فرمایا کیا تم نے اسے کھانا ہے۔پس معلوم ہوا کہ جس کا گوشت حرام ہو اس کے چڑے کے استعمال میں کوئی حرج نہیں۔ہاں سور کے بالوں کے بنے ہوئے بُرشوں کو مکر وہ کہا جائے گا کیونکہ ان کو منہ میں ڈالا جاتا ہے جو کھانے کا دروازہ ہے۔( تفسیر کبیر، سورة النحل زیر آیت إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ جلد ۴ صفحه ۲۲۰) بَاب ۳۱ : الْمِسْكُ مشک (کستوری) ٥٥٣٣ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا :۵۵۳۳ مرد نے ہمیں بتایا۔عبد الواحد (بن عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ زیاد) نے ہم سے بیان کیا کہ عمارہ بن قعقاع نے عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ہمیں بتایا۔انہوں نے ابوزرعہ بن عمرو بن جریر عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ الله سے، ابو زرعہ نے حضرت ابوہریرہ سے روایت اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مَكْلُوْمٍ کی۔انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی بھی ایساز خمی نہیں جو اللہ کے لئے يُكْلَمُ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ إِلَّا جَاءَ يَوْمَ زخمی ہوا ہو مگر وہ ضر ور قیامت کے دن اس حالت الْقِيَامَةِ وَكَلْمُهُ يَدْمَى اللَّوْنُ لَوْنُ دَمٍ میں آئے گا کہ اس کا زخم خون بہا رہا ہو گا، رنگ تو وَالرِّيْحُ رِيْحُ مِسْكِ۔أطرافه: ۲۳۷، ۲۸۰۳ خون کا رنگ ہو گا اور خوشبو مشک کی خوشبو ہو گی۔