صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 466
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۴۶۶ - ۷۲ - كتاب الذبائح والصيد نَحَرْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّی سے روایت کی کہ حضرت اسماء بنت ابی بکر کہتی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا فَأَكَلْنَاهُ تَابَعَهُ تھیں۔ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وَكِيعٌ وَابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ هِشَامٍ فِي زمانہ میں ایک گھوڑا نحر کیا اور ہم نے اس کو کھایا۔(جریر کی طرح) وکیع اور ابن عیینہ نے بھی ہشام النَّحْرِ۔أطرافه : -٥٥، ٥٥١١ ٥٥١٩۱۰ سے نحر کے متعلق یہی روایت کیا۔تشریح: التَّخرُ وَاللانج: نح اور فرج میں فرق۔محر گردن کے نچلے حصے میں نیزہ مارنے سے ہوتا ہے اور ذبح گردن کے اوپر والے حصے میں چھری سے کاٹنے سے ہوتا ہے۔نحر بالعموم اونٹوں میں کیا جاتا ہے اور ذبح ان کے سوا دوسرے جانوروں میں کیا جاتا ہے جیسے گائے بکری وغیرہ۔تاہم اس میں بھی کوئی حرج نہیں کہ اونٹوں کو ذبح کیا جائے اور دوسرے جانوروں کو نحر کیا جائے کیونکہ اس سے بھی مقصد حاصل ہو جاتا ہے۔بَاب ٢٥ : مَا يُكْرَهُ مِنَ الْمُثْلَةِ وَالْمَصْبُوْرَةِ وَالْمُجَنَّمَةِ زندہ جانور کے جسم کے حصوں کو کاٹنا یا اس کو باندھ کر یا بٹھا کر نشانہ بنانا مکروہ فعل ہے ٥٥١٣: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا ۵۵۱۳: ابو الولید نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے شُعْبَةُ عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ دَخَلْتُ ہمیں بتایا۔انہوں نے ہشام بن زید سے روایت مَعَ أَنَسٍ عَلَى الْحَكَمِ بْن أَيُّوبَ کی۔انہوں نے کہا: میں حضرت انس کے ساتھ فَرَأَى عِلْمَانًا أَوْ فِتْيَانًا نَصَبُوْا حکم بن ایوب کے پاس گیا اور وہاں چند لڑکوں یا دَجَاجَةً يَرْمُوْنَهَا فَقَالَ أَنَسٌ نَهَى (کہا:) چند نوجوانوں کو دیکھا کہ انہوں نے ایک النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ مرغی کو باندھ کر کھڑا کیا ہوا ہے اور اس پر تیر مار رہے ہیں۔حضرت انس نے یہ دیکھ کر کہا کہ نبی تُصْبَرَ الْبَهَائِمُ۔صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور کو اس طرح باندھ کر نشانہ کرنے سے منع کیا ہے۔٥٥١٤: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوْبَ :۵۵۱۴ احمد بن یعقوب نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو اسحاق بن سعید بن عمرو نے اپنے باپ سے،