صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 21
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۲۱ ۶۷ - كتاب النكاح شیطان اپنا کام چلاتا ہے۔ جس عورت کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) پیارا ہے اُس کو چاہیے کہ بیوہ ہونے کے بعد کوئی ایماندار اور نیک بخت خاوند تلاش کرلے۔ اور یاد رکھے کہ خاوند کی خدمت میں مشغول رہنا بیوہ ہونے کی حالت کے وظائف سے صد ہا درجہ بہتر ہے۔“ (ملفوظات جلد ۵ صفحہ ۴۷) ایک شخص کا سوال حضرت اقدس کی خدمت میں پیش ہوا کہ بیوہ عورتوں کا نکاح کن صورتوں میں فرض ہے ؟ اس کے نکاح کے وقت عمر، اولاد، موجودہ اسباب نان و نفقہ کا لحاظ رکھنا چاہیے یا کہ نہیں ؟ یعنی کیا بیوہ با وجود عمر زیادہ ہونے کے یا اولاد بہت ہونے کے یا کافی دولت پاس ہونے کے ہر حالت میں مجبور ہے کہ اس کا نکاح کیا جائے؟ فرمایا: بیوہ کے نکاح کا حکم اسی طرح ہے جس طرح کہ باکرہ کے نکاح کا حکم ہے۔ چونکہ بعض قو میں بیوہ عورت کا نکاح خلاف عزت خیال کرتے ہیں اور یہ بد رسم بہت پھیلی ہوئی ہے۔ اس واسطے بیوہ کے نکاح کے واسطے حکم ہوا ہے لیکن اس کے یہ معنے نہیں کہ ہر بیوہ کا نکاح کیا جائے۔ نکاح تو اسی کا ہو گا جو نکاح کے لائق ہے۔ اور جس کے واسطے نکاح ضروری ہے۔ بعض عورتیں بوڑھی ہو کر بیوہ ہوتی ہیں۔ بعض کے متعلق دوسرے حالات ایسے ہوتے ہیں کہ وہ نکاح کے لائق نہیں ہوتیں۔ مثلاً کسی کو ایسا مرض لاحق ہے کہ وہ قابل نکاح ہی نہیں یا کافی اولاد اور تعلقات کی وجہ سے ایسی حالت میں ہے کہ اس کا دل پسند ہی نہیں کر سکتا کہ وہ اب دوسرا خاوند کرے۔ ایسی صورتوں میں مجبوری نہیں کہ عورت کو خواہ مخواہ جکڑ کر خاوند کرایا جائے۔ ہاں اس بد رسم کو مٹا دینا چاہیے کہ بیوہ عورت کو ساری عمر بغ عمر بغیر خاوند کے جبر ارکھا جاتا ہے۔“ لملفوظات جلد ۵ صفحه ۳۱۹، ۳۲۰) باب ۱۱ : تَزْوِيجُ الصِّغَارِ مِنَ الْكِبَارِ چھوٹی عمر والیوں کا بڑوں سے نکاح کرنا ٥٠٨١ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ۵۰۸۱: عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَزِيدَ عَنْ عِرَاكٍ عَنْ ليث بن سعد ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یزید عُرْوَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بن ابی حبیب) سے، یزید نے عراک (بن مالک)