صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 456
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۴۵۶ ۷۲ - كتاب الذبائح والصيد أَنَّ جَارِيَةً لَهُمْ كَانَتْ تَرْعَى غَنَمًا وہ حضرت (عبد اللہ ) بن عمرؓ کو بتا رہے تھے کہ بِسَلْعِ فَأَبْصَرَتْ بِشَاةٍ مِنْ غَنَمِهَا ان کے باپ نے ان کو بتایا۔ان کی ایک لونڈی مَوْتًا فَكَسَرَتْ حَجَرًا فَذَبَحَتْهَا بِهِ۔تھی جو سلع پہاڑ پر بکریاں چرایا کرتی تھی۔اس فَقَالَ لِأَهْلِهِ لَا تَأْكُلُوا حَتَّى آتِيَ نے اپنی بکریوں میں سے ایک بکری کو مرتے النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْأَلَهُ دیکھا تو ایک پتھر توڑا اور اس سے اس کو ذبح کر أَوْ حَتَّى أُرْسِلَ إِلَيْهِ مَنْ يَسْأَلُهُ فَأَتَى ڈالا تو حضرت کعب نے اپنے گھر والوں سے کہا: النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ بَعَثَ اس وقت تک نہ کھاؤ جب تک میں نبی صلی اللہ إِلَيْهِ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ علیہ وسلم کے پاس نہ جاؤں اور آپ سے پوچھ نہ لوں یا (کہا) آپ کے پاس کسی کو نہ بھیج دوں جو آپ سے پوچھے۔چنانچہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے یا کسی کو آپ کے پاس بھیجا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھانے کی اجازت دی۔وَسَلَّمَ بِأَكْلِهَا۔أطرافه ٢٣٠٤، ٥٥٠٢، ٥٥٠٤ ٥٥٠٢: حَدَّثَنَا مُوْسَی حَدَّثَنَا :۵۵۰۲ موسیٰ (بن اسماعیل) نے ہم سے بیان جُوَيْرِيَةً عَنْ نَافِعٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي کیا کہ جویریہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے نافع سے، سَلِمَةَ أَخْبَرَ عَبْدَ اللهِ أَنَّ جَارِيَةً نافع نے بنی سلمہ کے ایک شخص سے بیان کیا کہ لِكَعْبِ بْنِ مَالِكِ تَرْعَى غَنَما لَهُ انہوں نے حضرت عبد اللہ بن عمر) کو خبر دی بِالْجُبَيْلِ الَّذِي بِالسُّوْقِ وَهُوَ بِسَلْعِ که حضرت کعب بن مالک کی ایک لونڈی ان کی فَأُصِيْبَتْ بِشَاةٍ فَكَسَرَتْ حَجَرًا بکریاں اس پہاڑی پر چہار ہی تھی جو بازار میں ہے فَذَبَحَتْهَا بِهِ فَذَكَرُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ یعنی سلع کی پہاڑی تو ایک بکری گر کر زخمی ہوئی۔اس نے ایک پتھر توڑا اور اس کو ذبح کر ڈالا۔انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا۔آپ نے ان کو کھانے کی اجازت دی۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُمْ بِأَكْلِهَا۔أطرافه ٢٣٠٤، ٥٥٠١، ٥٥٠٤-