صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 19
۶۷ - كتاب النكاح 19 صحیح البخاری جلد ۱۳ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَعْرِضْنَ مجھ سے فرمایا: تم اپنی بیٹیاں میرے سامنے پیش نہ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ وَلَا أَخَوَاتِكُنَّ۔کیا کرو اور نہ ہی اپنی بہنیں۔٥٠٧٩: حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا ۵۰۷۹: ابو نعمان نے ہم سے بیان کیا۔ہشیم نے هُشَيْمٌ حَدَّثَنَا سَيَّارٌ عَنِ الشَّعْبِيِّ ہمیں بتایا۔سیار ( بن ابی سیار وردن) نے ہمیں خبر عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ قَفَلْنَا مَعَ دی۔انہوں نے شعبی سے ، شعمی نے حضرت جابر النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةٍ بن عبد اللہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: ہم نبی فَتَعَجَّلْتُ عَلَى بَعِيرٍ لِي قَطُوفٍ صلى اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ سے واپس فَلَحِقَنِي رَاكِبٌ مِنْ خَلْفِي فَنَخَسَ لوٹے۔میں اپنے ایک سست اونٹ کو جلدی چلانے بَعِيرِي بِعَنَزَةٍ كَانَتْ مَعَهُ فَانْطَلَقَ کی کوشش کر رہا تھا کہ میرے پیچھے سے ایک سوار بَعِيرِي كَأَجْوَدِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِّنَ الْإِبِلِ مجھے آملا اور اُس نے اپنے بھالے سے جو اُس کے فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ پاس تھا میرے اُونٹ کو چوب دی تو میرا اونٹ فَقَالَ مَا يُعْجِلُكَ؟ قُلْتُ كُنتُ ایسی عمدگی سے چلنے لگا کہ جو تم اونٹ چلتے دیکھا حَدِيثَ عَهْدِ بِعُرُسٍ قَالَ أَبِكْرًا أَمْ کرتے ہو۔میں کیا دیکھتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم لَيْبًا؟ قُلْتُ ثَيْبًا۔قَالَ فَهَلًا جَارِيَةً ہیں۔آپ نے پوچھا: تمہیں کیا جلدی پڑی ہے ؟ تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ۔قَالَ فَلَمَّا ذَهَبْنَا میں نے عرض کیا: میں نے نئی نئی شادی کی ہے۔لِنَدْخُلَ قَالَ أَمْهِلُوا حَتَّى تَدْخُلُوا لَيْلًا آپ نے فرمایا: باکرہ سے یا شیبہ سے ؟ میں نے کہا: أَيْ عِشَاء لِكَيْ تَمْتَشِطَ الشَّعِئَةُ تیر سے۔آپ نے فرمایا: باکرہ کیوں نہ کی؟ تم اُس سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی۔(حضرت جابر وَتَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ۔کہتے تھے : جب ہم مدینہ داخل ہونے لگے آپ نے فرمایا: ٹھہر جاؤ۔رات کو یعنی عشاء کے وقت داخل ہونا تا کہ پراگندہ بالوں والی کنگھی کر لے اور جس کا خاوند غائب رہا ہو وہ پاکی کرلے۔أطرافه: ٤٤٣ ، ۱۸۰۱، ۲۰۹۷، ۲۳۰۹، ۲۳۸۵، ۲۳۹٤، ٢٤٠٦، ٢٤٧٠، ٢٦٠٣، 60۔^۔،٤٠٥۲ ،۳۰۹۰ ،۳۰۸۹ ،۳۰۸۷ ،۲۹۶۷ ،۲۸۶۱ ،۲۷۱۸ ،٢٦٠٤ -٥٢٤٣، ٥٢٤٤، ٥٢٤٥، ٥٢٤٦، ٥٢٤، ٥٣٦٧، ٦٣٨٧