صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 433
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۴۳۳ ۷۲ - كتاب الذبائح والصيد أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بیان کیا کہ ہمیں مالک نے بتایا۔انہوں نے نافع بْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی سے ، نافع نے حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا إِلَّا کی۔انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كَلْبَ مَاشِيَةٍ أَوْ صَادِيًا نَقَصَ مِنْ نے فرمایا: جس نے کتا رکھا سوائے ریوڑ کے کتے کے یا شکاری کے تو اس کے عمل سے ہر روز دو دو عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ۔أطرافة : ٥٤٨٠ ٥٤٨١- قیراط کم ہوتے رہیں گے۔تشریح : مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا لَيْسَ بِكَلْبِ صَيْدٍ أَوْ مَاشِيَةٍ: جس نے ایسا کتا رکھا جو نہ شکاری کتا ہو اور نہ ہی ریوڑ کی نگہبانی کرنے والا کتا ہو۔اسلام نے حلت و حرمت کے احکام کے ساتھ بعض جانوروں کے متعلق معین صورت میں راہنمائی فرمائی ہے جیسے سور کے کھانے کو واضح طور پر حرام قرار دیا ہے اسی طرح ایسے کتنے رکھنے سے بھی منع کیا جو نہ شکار کی غرض سے ہوں اور نہ حفاظت کی غرض سے ، بلکہ محض کھیل تماشے کے طور پر شوقیہ رکھے جائیں۔جیسا کہ مغربی دنیا میں بالخصوص اور ان کی مشابہت اختیار کرتے ہوئے دیگر اقوام میں بھی بالعموم یہ رجحان اس قدر پھیلتا جا رہا ہے کہ بعض معاشروں میں کتوں نے انسانوں کی جگہ لے لی ہے اور انسان سے بڑھ کر کتے کی فکر اور اس کی خوراک و علاج معالجہ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ایک طبقہ کتے کو اسی طرح اپنے خاندان کا حصہ سمجھتا ہے جس طرح کسی دوسرے انسان کو۔ایک رپورٹ کے مطابق صرف امریکہ میں پالتو کتوں کی تعداد چھ کروڑ سے زائد ہے جن پر ایک کھرب ہیں ارب روپے اوسطاً خرچ ہوتے ہیں۔جبکہ امریکہ و دیگر کئی ترقی یافتہ ملکوں میں بھی لاکھوں انسان جو بے گھر (Homeless) ہیں ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔اسلام نے اعتدال کی تعلیم دی ہے اور خالق و مالک نے مخلوق پیدا کر کے ہر ایک کا مقام، حیثیت، محل اور طور طریقہ بیان فرما دیا ہے۔اگر آج کے انسان کو بعض باتوں کی ابھی سمجھ نہیں آتی تو کم از کم اس بات پر یقین کرلے کہ خالق سے بہتر مخلوق کے متعلق کوئی راہنمائی نہیں کر سکتا۔موجودہ دور میں کتوں سے متعلق مثبت اور منفی سائنسی تحقیقات شائع ہوتی رہتی ہیں۔بلاشبہ ان رپورٹس پر پوری طرح اعتماد نہیں کیا جا سکتا جب تک مسلسل تجربات سے ان بپایہ ثبوت نہ پہنچایا جائے۔مثلاً ناروے میں چھپنے والی ایک رپورٹ کے مطابق چھاتی کے سرطان کے بارے میں تحقیق کی گئی تو پتا چلا کہ اس مرض کا تعلق ۷۹۔۹ فیصد ان لوگوں کے ساتھ تھا جنہوں نے کتے یا دیگر جانور پالے ہوئے تھے۔اس میں یہ بھی کہا گیا کہ پالتو جانوروں کے مالکان کے لیے دیگر انسانوں سے ۲۹ فیصد خطرات زیادہ ہوتے ہیں۔ایک جرمن ڈاکٹر نوللر کے مطابق کتوں میں فیتہ کی شکل کا ایک جراثیم پایا جاتا ہے جو کئی ایک دائگی امراض کا