صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 411
صحیح البخاری جلد ۱۳ فَبَالَ عَلَيْهِ فَأَتْبَعَهُ الْمَاءَ۔أطرافه ٢٢٢، ٦٠٠٢، ٦٣٥٥ - ۴۱۱ ا - كتاب العقيقة کی۔وہ کہتی تھیں: نبی صلی ال نیم کے پاس ایک بچہ لایا گیا کہ آپ اس کو گھٹی دیں۔اس نے آپ پر پیشاب کر دیا تو آپ نے اس (مقام) پر پانی بہا دیا۔٥٤٦٩: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرِ :۵۴۶۹: اسحاق بن نصر نے ہمیں بتایا کہ ابو اسامہ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام بن عروہ نے ہمیں عُرْوَةَ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بتایا۔انہوں نے اپنے باپ سے ، ان کے باپ نے بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهَا حَمَلَتْ حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت بِعَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ بِمَكَّةَ قَالَتْ کی کہ وہ مکہ میں تھیں۔عبد اللہ بن زبیر ان کے فَخَرَجْتُ وَأَنَا مُتِمٌ فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ حمل میں تھے۔کہتی تھیں: میں جب (مکہ سے) نکلی تو حمل کی مدت کو) پورا کر رہی تھی۔مدینہ فَنَزَلْتُ قُبَاءً فَوَلَدْتُ بِقُبَاءٍ ثُمَّ أَتَيْتُ میں آئی اور قباء میں اتری اور میں نے قباء میں بچہ بِهِ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جنا۔پھر میں عبد اللہ کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ فَوَضَعْتُهُ فِي حَجْرِهِ ثُمَّ دَعَا بِتَمْرَةٍ عليه وسلم کے پاس آئی اور اسے آپ کی گود میں فَمَضَغَهَا ثُمَّ تَفَلَ فِي فِيْهِ فَكَانَ أَوَّلَ رکھ دیا۔آپ نے ایک کھجور منگوائی اور اس کو چبا کر شَيْءٍ دَخَلَ جَوْفَهُ رِيْقُ رَسُوْلِ اللهِ اس کے منہ میں لعاب سے گھٹی دی، تو پہلی چیز جو صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ حَنَّكَهُ اس کے پیٹ میں داخل ہوئی رسول اللہ صلی اللہ بِالتَّمْرَةِ ثُمَّ دَعَا لَهُ فَبَرَّكَ عَلَيْهِ وَكَانَ علیہ وسلم کا لعاب تھا۔پھر آپ نے کھجور کو اس کے أَوَّلَ مَوْلُوْدٍ وُلِدَ فِي الْإِسْلَامِ فَفَرِحُوْا تالو میں لگا دیا اور آپ نے اس کے لئے دعا کی اور بِهِ فَرَحًا شَدِيدًا لِأَنَّهُمْ قِيْلَ لَهُمْ إِنَّ اس کو برکت دی۔اور عبد اللہ بن زبیر پہلا بچہ تھا جو الْيَهُودَ قَدْ سَحَرَتْكُمْ فَلَا يُوْلَدُ لَكُمْ۔اسلام میں پیدا ہوا تو لوگ اس کے پیدا ہونے سے بہت ہی خوش ہوئے کیونکہ انہیں کہا گیا تھا کہ یہود طرفه: ۳۹۰۹ - نے تم پر جادو کر دیا ہے۔اب تمہارے ہاں اولاد نہیں پیدا ہوگی۔