صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 339
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۳۳۹ ٧٠ - كتاب الأطعمة ٥٣٨٧ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ۵۳۸۷: (سعید) بن ابی مریم نے ہم سے بیان أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا کیا کہ محمد بن جعفر نے ہمیں بتایا کہ محمید (طویل) حُمَيْدٌ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا يَقُوْلُ قَامَ نے ہمیں خبر دی کہ انہوں نے حضرت انس سے النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْنِي سنا۔ وہ کہتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام بِصَفِيَّةَ فَدَعَوْتُ الْمُسْلِمِينَ إِلَى کیا کہ حضرت صفیہ سے شادی کریں۔ میں نے وَلِيُمَتِهِ أَمَرَ بِالْأَنْطَاعِ فَبُسِطَتْ فَأُلْقِيَ مسلمانوں کو آپؐ کے ولیمہ کے لئے بلایا۔ آپؐ عَلَيْهَا التَّمْرُ وَالْأَقِطَ وَالسَّمْنُ۔ وَقَالَ نے چڑے کے دستر خوانوں کے متعلق حکم دیا وہ حد عَمْرُو عَنْ أَنَسٍ بَنَى بِهَا النَّبِيُّ صَلَّی بچھائے گئے اوران پر کھجوریں، پنیر اور تھی ڈال دیا گیا۔ اور عمرو نے حضرت انس سے یوں نقل کیا کہ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ صَنَعَ حَيْسًا فِي نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ سے شادی نطع۔ کی پھر دستر خوان پر مالیدہ بنا کر رکھا۔ أطرافه: ۳۷۱، ۶۱۰، ۹۴۷، ۲۲۲۸، ۲۲۳۵، ۲۸۸۹، ۲۸۹۳، ٢٩٤٣، ٢٩٤٤، ،٣٣٦٧، ٣٦٤٧، ٤٠٨، ٤٠٨٤، ٤١٩٧ ،۳۰۸۶ ،۳۰۸۵ ،۲۹۹۱ ،٢٩٤٥ ،٤٢، ٤٢١١، ٤٢١٢، ٤٢١٣، ٥٠٨٥، ٥١٥٩۰۱ ،۲۰۰ ،۴۱۹۹ ،٤١٩٨ ٥١٦٩، ٥٤٢٥، ٥٥٢٨، ٥٩٦٨، ١٨٥، ٦٣٦٣، ٦٣٦٩، ٧٣٣٣۔ ٥٣٨٨ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ أَخْبَرَنَا ۵۳۸۸ : محمد (بن سلام) نے ہم سے بیان کیا کہ أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيْهِ ابو معاویہ نے ہمیں خبر دی۔ ہشام بن عروہ) وَعَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ قَالَ كَانَ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے اپنے باپ سے اور أَهْلُ الشَّامِ يُعَيِّرُونَ ابْنَ الزُّبَيْرِ وهب بن کیسان سے بھی روایت کی۔ انہوں نے يَقُوْلُوْنَ يَا ابْنَ ذَاتِ النِّطَاقَيْنِ کہا کہ شام کے لوگ حضرت (عبد اللہ بن زبیر فَقَالَتْ لَهُ أَسْمَاءُ يَا بُنَيَّ إِنَّهُمْ کو طعنہ مارتے تھے۔ اے ذات النطاقین کے يُعَيِّرُونَكَ بِالنِّطَاقَيْنِ وَهَلْ تَدْرِي مَا بیٹے حضرت اسماء ( بنت ابی بکر ) نے اُن سے کہا: كَانَ النِّطَاقَانِ إِنَّمَا كَانَ نِطَاقِي اے میرے بیٹے! وہ تمہیں نطاقین کا طعنہ دیتے شَقَقْتُهُ نِصْفَيْنِ فَأَوْكَيْتُ قِرْبَةَ رَسُوْلِ ہیں تم جانتے ہو کہ نطاقین کیا تھے ؟ میرا کمر بند تھا