صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 245
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۲۴۵ ۶۸ - کتاب الطلاق الْحَجَّاجِ عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَنَسِ نے ہشام بن زید سے، ہشام نے حضرت انس بن بْنِ مَالِكٍ قَالَ عَدَا يَهُودِيٌّ فِي عَهْدِ مالک سے روایت کرتے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک یہودی نے ایک لڑکی عَلَى جَارِيَةٍ فَأَخَذَ أَوْضَاحًا كَانَتْ پر حملہ کیا اور (اُس کا) زیور جو اُس نے پہنا ہوا تھا عَلَيْهَا وَرَضَحَ رَأْسَهَا فَأَتَى بِهَا أَهْلُهَا لے لیا اور اُس کا سر کچل ڈالا اُس لڑکی کے رشتہ دار رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اُس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے وَهِيَ فِي آخِرِ رَمَقٍ وَقَدْ أُصْمِتَتْ اور وہ آخری سانس لے رہی تھی اور زبان بھی فَقَالَ لَهَا رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ بند ہو چکی تھی۔تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وَسَلَّمَ مَنْ قَتَلَكِ فُلَانٌ لِغَيْرِ الَّذِي اس سے پوچھا: تم کو کس نے قتل کیا؟ اور جس قَتَلَهَا فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ لَّا قَالَ نے اُس کو قتل نہیں کیا تھا اس کا نام لے کر فرمایا: فَقَالَ لِرَجُلٍ آخَرَ غَيْرِ الَّذِي قَتَلَهَا فلاں نے؟ اس نے اپنے سر سے اشارہ کیا کہ فَأَشَارَتْ أَنْ لَّا۔فَقَالَ فَفُلَانٌ لِقَاتِلِهَا نہیں۔حضرت ابو ہریرہ کہتے تھے کہ آپ نے پھر فَأَشَارَتْ أَنْ نَعَمْ فَأَمَرَ بِهِ رَسُوْلُ اللَّهِ ایک اور شخص کا نام لیا جس نے اُس کو قتل نہیں کیا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرْضِحَ رَأْسُهُ تھا تو اس نے اشارہ کیا کہ نہیں۔پھر اس کے قاتل کا نام لے کر کہا کہ فلاں نے ؟ تو اُس نے سر کے اشارہ سے بتایا کہ ہاں۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ بَيْنَ حَجَرَيْنِ۔علیہ وسلم نے اُس قاتل کے متعلق حکم دیا۔اس کا سر بھی دو پتھروں کے درمیان کچلا گیا۔أطرافه : ٢٤١٣، ٢٧٤٦، ٦٨٧٦، ٦٨٧٧، ٦٨٧٩، ٦٨٨٤، ٦٨٨٥- ٥٢٩٦: حَدَّثَنَا قَبِيْصَةُ حَدَّثَنَا ۵۲۹۶ قبیصہ (بن عقبہ کوفی) نے ہم سے بیان سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ عبد الله بن دینار سے ، عبد اللہ نے حضرت ابن عمر سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔انہوں نے کہا: میں