صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 138 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 138

صحیح البخاری جلد ۱۳ الله ۶۷ - كتاب النكاح أَهْلِ بَيْتِهِ وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ عَلَى بَيْتِ ایک سے اس کی رعیت کے متعلق پرسش ہو گی۔ زَوْجِهَا وَوَلَدِهِ فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ حاکم بھی ایک نگران ہے اور آدمی بھی اپنے گھر والوں کا نگران ہے اور عورت بھی اپنے خاوند کے گھر اور اُس کی اولاد کی نگران ہے۔ غرض تم میں مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ۔ سے ہر ایک پاسبان ہے اور تم میں سے ہر ایک کو اس کی رعیت کے متعلق پوچھا جائے گا۔ أطرافه: ۸۹۳، ۲۴۰۹ ، ٢٥٥٤ ، ۲٥٥٨ ، ۲۷۵۱، ۵۱۸۸، ۷۱۳۸- باب ۹۱ : قَوْلُ اللهِ تَعَالَى الرِّجَالُ قَوْمُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ إِلَى قَوْلِهِ إِنَّ اللهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا (النساء: ٣٥) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: یعنی مرد عورتوں پر نگران ہیں اس فضیلت کی وجہ سے جو اللہ نے ان میں سے بعض کو بعض پر بخشی ہے اور اس پر بخشی ہے اور اس وجہ سے بھی کہ و کہ وہ اپنے اموال ( ان پر ) خرچ کرتے ہیں پس نیک عورتیں فرمانبردار اور غیب میں بھی ان چیزوں کی حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں جن کی حفاظت کی اللہ نے تاکید کی ہے اور وہ عورتیں جن سے تمہیں باغیانہ رویے کا خوف ہو تو ان کو ( پہلے تو) نصیحت کرو، پھر ان کو بستروں میں الگ چھوڑ دو اور پھر (عند الضرورت) اُنہیں بدنی سزا بھی دو پس اگر وہ تمہاری اطاعت کریں تو پھر ان کے خلاف کوئی حجت تلاش نہ کرو یقینا اللہ بہت بلند (اور) بہت بڑا ہے۔ ٥٢٠۱ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ۵۲۰۱: خالد بن مخلد نے ہمیں بتایا کہ سلیمان حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ قَالَ حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ (بن بلال) نے ہم سے بیان کیا۔ اُنہوں نے کہا: عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ آلَى حمید (طویل) نے مجھ سے بیان کیا۔ حمید نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ وہ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نِسَائِهِ شَهْرًا وَقَعَدَ فِي مَشْرُبَةٍ لَهُ بیویوں کے پاس مہینہ بھر نہ جانے کی قسم کھائی اور فَنَزَلَ لِتِسْعٍ وَعِشْرِينَ فَقِيلَ يَا رَسُولَ آپ اپنے ایک بالا خانہ میں قیام پذیر رہے۔ اللَّهِ إِنَّكَ آلَيْتَ شَهْراً قَالَ إِنَّ الشَّهْرَ پھر آپ انتیسویں دن کو اُترے۔ آپؐ سے کہا گیا: