صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 95 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 95

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۹۵ ۶۷ - كتاب النكاح کتابوں کی طرح بلکہ ان سے افضل ہیں تو میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ جن نبیوں نے خلاف قانون انگریزی کئی لاکھ شیر خوار بچے قتل کئے اگر وہ اس وقت ہوتے تو گور نمنٹ ان سے کیا معاملہ کرتی۔اگر وہ لوگ گورنمنٹ کے سامنے چالان ہو کر آتے جنہوں نے بیگانے کھیتوں کے خوشے توڑ کر کھا لئے تھے تو گورنمنٹ اُن کو اور ان کے اجازت دینے والے کو کیا کیا سزا دیتی ؟ پھر میں پوچھتا ہوں کہ وہ شخص جو انجیر کا پھل کھانے دوڑا تھا اور انجیل سے ثابت ہے کہ وہ انجیر کا درخت اس کی ملکیت نہ تھا بلکہ غیر کی ملک تھا۔اگر وہ شخص گورنمنٹ کے سامنے یہ حرکت کرتا تو گورنمنٹ اس کو کیا سزا دیتی۔انجیل سے یہ بھی ثابت ہے کہ بہت سے سور جو بیگانہ مال تھے اور جن کی تعداد بقول پادری کلارک دو ہزار تھے، مسیح نے تلف کئے۔اب آپ ہی بتلائیں کہ تعزیرات کی رو سے اس کی سزا کیا ہے۔بالفعل اسی قدر لکھنا کافی ہے۔“ ( نور القرآن نمبر ۲ ، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۳۷۷-۳۸۰) حضرت عائشہ کی عمر کے متعلق تحقیقی نوٹ کے لئے دیکھئے سیرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم مصنفہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے، صفحہ ۴۷۹ تا ۴۸۸۔بَابِ ٦٠: الْبِنَاءُ فِي السَّفَرِ سفر میں رخصتانہ کی رسم ادا کرنا ٥١٥٩: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ :۵۱۵۹ محمد بن سلام (بیکندی) نے ہم سے بیان أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ حُمَيْدٍ کیا کہ اسماعیل بن جعفر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عَنْ أَنَسٍ قَالَ أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ حمید سے ، حمید نے حضرت انس سے روایت کی۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ خَيْبَرَ وَالْمَدِينَةِ ثَلَالٌ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم خیبر اور مدینہ کے درمیان تین دن ٹھہرے رہے تا حضرت صفیہ يُبْنَى عَلَيْهِ بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَةٍ فَدَعَوْتُ بنت حي آپؐ کے پاس رخصت کی جائیں۔میں نے الْمُسْلِمِينَ إِلَى وَلِيمَتِهِ فَمَا كَانَ فِيهَا مسلمانوں کو آپ کے ولیمہ میں بلایا۔اس میں نہ مِنْ خَيْرٍ وَّلَا لَحْمِ أَمَرَ بِالْأَنْطَاعِ روٹی تھی نہ گوشت۔آپ نے دستر خوان بچھائے فَأُلْقِيَ فِيهَا مِنَ التَّمْرِ وَالْأَقِطِ وَالسَّمْنِ جانے کا حکم دیا۔پھر ان پر کھجوریں، پنیر اور گھی رکھ