صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 76 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 76

صحیح البخاری جلد ۱۲ 24 -۶۵ - كتاب التفسير / محمد بنائیں۔جب آپ کی بعثت ہوئی اور اس عظیم ذمہ داری کی فکر آپ کے دامن گیر ہوئی تو آپ کی زوجہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے یہ کہہ کر آپ کو تسلی دی کہ آپ اس ذمہ داری سے ضرور عہدہ بر آہوں گے۔فرمایا: إِنَّكَ لتصل الرحم (یعنی آپ صلہ رحمی کرتے ہیں) آپ نے اپنے قول اور فعل سے صلہ رحمی کے وصف کو بام عروج تک پہنچایا۔اور ایسے سنہرے اصول وضع فرمائے کہ ہر پہلو روشن کر دیا۔جیسا کہ فرمایا: لَيْسَ الوَاصِلُ بِالْمُکانی (یعنی صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں ہے جو صرف بدلہ ہی ادا کرتا ہے) نیز فرمایا: تَعَلَّمُوا مِنْ أَنْسَابِكُمْ مَا تَصِلُونَ بِهِ أَرْحَامَكُمْ ، فَإِنَّ صِلَةَ الرَّحِمِ مَحَبَّةُ فِي الأَهْلِ، مَكْرَاةٌ فِي المَالِ، مَنْسَأَةٌ في الأثر سے اپنے حسب نسب کا علم حاصل کرو جس سے تم رحمی رشتوں کو جوڑتے ہو۔یقین صلہ رحمی اہل و عیال میں محبت پیدا کرنے والی ، مال بڑھانے والی اور اثر کو تادیر قائم رکھنے والی ہے۔(بخاری، کتاب بدء الوحي، كَيْفَ كَانَ بَدُهُ الوَحْيِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، روایت نمبر ۳) (بخاری، کتاب الادب، باب لَيْسَ الوَاصِلُ بِالْمُعانی، روایت نمبر ۵۹۹۱) (ترمذی، ابواب البر والصلة، باب ما جاء في تعليم النسب)