صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 76
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۷۶ ۶۵ - كتاب التفسير / محمد - بنائیں۔ جب آپ کی بعثت ہوئی اور اس عظیم ذمہ داری کی فکر آپؐ کے دام کے دامن گیر ہوئی تو آپؐ کی زوجہ کی زوجہ حضرت خدیجه رضی اللہ عنہا نے یہ کہہ کر آپ کو تسلی دی کہ آپ اس ذمہ داری سے ضرور عہدہ بر آہوں گے۔ فرمایا: إِنَّكَ لتصل الرحم اے (یعنی آپ صلہ رحمی کرتے ہیں) آپ نے اپنے قول اور فعل سے صلہ رحمی کے وصف کو بام عروج تک پہنچایا۔ اور ایسے سنہرے اصول وضع فرمائے کہ ہر پہلو روشن کر دیا۔ جیسا کہ فرمایا: لَيْسَ الوَاصِلُ بِالْمُعافی کے (یعنی صلہ رحمی کرنے ولا وہ نہیں ہے جو صرف بدلہ ہی ادا کرتا ہے) نیز فرمایا: تَعَلَّمُوا مِنْ أَنْسَابِكُمْ مَا تَصِلُونَ بِهِ أَرْحَامَكُمْ ، فَإِنَّ صِلَةَ الرَّحِمِ مَحَبَّةٌ فِي الأَهْلِ، مَتْرَاةُ فِي المَالِ، مَنْسَأَةٌ فِي الأثر سے اپنے حسب نسب کا علم حاصل کرو جس سے تم رحمی رشتوں کو جوڑتے ہو۔ یقینا صلہ رحمی اہل و عیال میں محبت پیدا کرنے والی ، مال بڑھانے والی اور اثر کو تادیر قائم رکھنے والی ہے۔ (بخاری، کتاب بدء الوحي، كَيْفَ كَانَ بَدُهُ الوَحْيِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، روایت نمبر (۳) (بخاری، کتاب الادب، باب لَيْسَ الوَاصِلُ بِالْمُکانی، روایت نمبر ۵۹۹۱) (ترمذی، ابواب البر والصلة، باب ما جاء في تعليم النسب)