صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 75
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۷۵ ۶۵ - كتاب التفسير / محمد ٤٨٣٢ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ۴۸۳۲ : بشر بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي (بن مبارک) نے ہمیں خبر دی۔ معاویہ بن الْمُزَرَّدِ بِهَذَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى ابی مُرد نے ہمیں یہی بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ لو : فَهَلْ عَسَيْتُمْ (کہیں ایسا نہ ہو کہ ) اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہو تو یہ آیت) پڑھ فَهَلْ عَسَيْتُمْ ۔ (محمد : ۲۳) أطرافه: ٤٨٣٠، ٤٨٣١، ٥٩٨٧، ٧٥٠٢۔ تشریح : وَتُقَطِعُوا أَرْحَامَكُمْ : اللہ تعالی فرماتا ہے : : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَ تُقَطِعُوا أَرْحَامَكُمْ أُولَئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ لَعَنَهُمُ اللهُ فَأَصَتَهُمْ وَاعْلَى أَبْصَارَهُمْ (محمد : ۲۴۲۳) پس کیا یہ امر قریب نہیں کہ اگر تم پیٹھ پھیر لو تو ( پھر بھی) زمین میں فساد کرنے کا موجب ہو جاؤ۔ اور رشتوں کو کاٹ دو۔ یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے اور ان کو بہرہ کر دیا ہے اور ان کی آنکھوں کی بینائی ضائع کر دی ہے۔ قَامَتِ الرَّحِمَ فَأَخَذَتْ بِحَقو الرَّحْمَنِ : رحم اس تھیلی کوکہتے ہیں جو ماں کے پیٹ میں ہوتی ہے، جس میں بچہ پروان چڑھتا ہے۔ امام طیبی لکھتے ہیں یہ استعارہ اور تمثیلی کلام ہے۔ (فتح ) ر الباری جزء ۸ صفحہ ۷۳۸) اس روایت میں اللہ تعالیٰ کی صفت رحمن کے حوالہ سے استعارہ کے رنگ میں اللہ تعالیٰ کا بنی نوع انسان سے تعلق ظاہر کیا گیا ہے۔ اس لیے فرمایا کہ جو میرے بندوں سے تعلق کاٹے گا میں اس سے تعلق کاٹ لوں گا۔ بنی نوع انسان سب آدم کی اولاد ہیں۔ عيال الله کہ اس لحاظ ، سے سب ایک ہی رحم سے پیدا کیے گئے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الخَلْقُ عِيالُ الله تمام مخلوق اللہ کا کنبہ ہے۔ آپؐ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو ایک ہاتھ پر جمع کرنے اور ایک وجود بنانے کا فیصلہ کیا۔ جیسا کہ فرمایا: قُلْ يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا بِالَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ يُعِي وَيُمِيتُ فَامِنُوا بِاللَّهِ وَرَ وَرَسُولِهِ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ الَّذِي يُؤْمِنُ بِاللهِ وَكَلِمَتِهِ وَاتَّبِعُوهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ ) (الاعراف: ۱۵۹) کے اسی حکم کے مطابق آپ نے اعلان فرمایا: بعثت إلى النَّاسِ كَافةً " (یعنی میں تمام لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہوں) اور آپ کی فطرت میں یہ بات ودیعت کی گئی کہ باہم پھٹے ہوئے اور منتشر انسانوں کو ایک وجود (مسند البزار ، مُسْنَدُ أَبِي حَمْرَةً أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، جلد ۱۳ صفحه ۳۳۲، روایت نمبر ۶۹۴۷) ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع: ” تو کہہ دے کہ اے انسانو! یقیناً میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں جس کے قبضے میں آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں وہ زندہ بھی کرتا ہے اور مارتا بھی ہے پس ایمان لے آؤ اللہ پر اور اس کے رسول نبی امی پر جو اللہ پر اور اس کے کلمات پر ایمان رکھتا ہے اور اُسی کی پیروی کرو تا کہ تم ہدایت پا جاؤ۔“ (بخاری، كِتَابُ الصَّلَاةِ، بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ ، جُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَ طَهُورًا ، روایت نمبر ۴۳۸)