صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 72 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 72

صحیح البخاری جلد ۱۲ zr ۶۵ - كتاب التفسير / محمد حَتَّى لَا يَبْقَى إِلَّا مُسْلِم میں لفظ مسلم سے مراد وہ ہے جو سلامتی اور امن چاہتا ہے۔صلح جو اور امن کا متلاشی ہے۔یہ معانی قرآن کریم کی متعدد آیات سے ثابت ہوتے ہیں۔مثلاً سورہ نساء میں فرمایا: فَأَنِ اعْتَزَ لُؤْكُمْ فَلَمْ يُقَاتِلُوكُمْ وَالْقَوْا إِلَيْكُمُ السَّلَمَ فَمَا جَعَلَ اللهُ لَكُمْ عَلَيْهِمْ سَبِيلًا (النساء: 91) ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ محارب کفار جنگ وجدال چھوڑ کر تم سے صلح کی طرح ڈالیں تو پھر اُن سے جنگ کرنا جائز نہیں۔یہاں لفظ السلم کے معنی امن و سلامتی کی طرف مائل ہونے کے ہیں نہ کہ اسلام قبول کرنے کے۔اسی طرح آیت و ان جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا (الأنفال: ۶۲) کے بھی لفظ مسلم کے اسی مفہوم کی تائید کرتی ہے۔نیز احادیث نبوی میں یہ مضمون صراحت سے بیان ہوا ہے۔جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: المُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ المُسْلِمُونَ مِن لِسَانِهِ وَيَدِهِ - - یعنی اصل مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان سلامتی میں رہیں یہاں مسلمان سے مراد صلح جو، سلامتی کا خواہاں اور امن پسند شخص ہے۔حَتَّى تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَھا کے ایک معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ نزولِ مسیح تک جنگوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۷۳۶) یعنی مسیح جب آئیں گے تو مذ ہبی جنگوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ”لکھا ہے کہ جب مسیح موعود ظاہر ہو جائے گا تو سیفی جہاد اور مذہبی جنگوں کا خاتمہ ہو جائے گا کیونکہ مسیح نہ تلوار اُٹھائے گا اور نہ کوئی اور زمینی ہتھیار ہاتھ میں پکڑے گا بلکہ اُس کی دعا اُس کا حربہ ہو گا اور اُس کی عقدِ ہمت اُس کی تلوار ہو گی وہ صلح کی بنیاد ڈالے گا اور بکری اور شیر کو ایک ہی گھاٹ پر اکٹھے کرے گا اور اس کا زمانہ صلح اور نرمی اور انسانی ہمدردی کا زمانہ ہو گا۔۔۔۔تیرہ سو برس ہوئے کہ مسیح موعود کی شان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے کلمہ يَضَعُ الحرب جاری ہو چکا ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ مسیح موعود جب آئے گا تو لڑائیوں کا خاتمہ کر دے گا اور اسی کی طرف اشارہ اس قرآنی آیت کا ہے حَتَّى تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا یعنی اس وقت تک لڑائی کرو جب تک کہ صحیح کا وقت آ جائے۔یہی تَضَعَ الْحَرْبُ ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع: "پس اگر وہ تم سے الگ رہیں پھر تم سے قتال نہ کریں اور تمہیں امن کا پیغام دیں تو پھر اللہ نے تمہیں ان کے خلاف کوئی جواز نہیں بخشا۔“ ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع: "اور اگر وہ صلح کے لیے جھک جائیں تو تو بھی اس کے لیے جھک جا۔“ (بخاری، کتاب الإيمان، باب المُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ المُسْلِمُونَ، روایت نمبر ۱۰)