صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 71
صحیح البخاری جلد ۱۲ ا ۶۵ - كتاب التفسير / محمد ٤٧ - سُوْرَةُ مُحَمَّدٍ اوزارها (محمد: ه) آثَامَهَا حَتَّى لَا يَبْقَى اَوْزَارَهَا کے معنی ہیں اپنے گناہ۔ (حَتَّی تَضَعَ إِلَّا مُسْلِمٌ عَرَفَهَا (محمد: ٧) بَيْنَهَا ۔ وَقَالَ الْحَرْبُ أَوْزَارھا ہے) یہ مراد ہے کہ یہاں تک مُجَاهِدٌ : مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوا (محمد: ۱۲ که مسلمان کے سوا اور کوئی باقی نہ رہے۔ عرفها کے معنی اس کو کھول کر بتا دیا۔ اور مجاہد نے کہا: وَلِيُّهُمْ عَزَمَ الْأَمْرُ (محمد: ۲۲) جَدَّ مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوا کے معنی وہ ان کا کار ساز ہو گا۔ الْأَمْرُ ۔ فَلَا تَهِنُوا ( محمد : ٣٦) لَا تَضْعُفُوا عَزَمَ الْأَمْرُ کے معنی ہیں بات پختہ ہو جائے۔ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَضْغَانَهُمُ (محمد: ۳۰) فَلَا تَهِنُوا کے معنی ہیں تم ڈھیلے نہ پڑو۔ اور حَسَدَهُمْ۔ أَسِن (محمد: ١٦) مُتَغَيِّرٍ۔ حضرت ابن عباس نے کہا: أَضْغَانَهُمْ سے مراد ہے ان کے حسد۔ آئین یعنی سڑا ہوا (پانی)۔ تشريح : أَوْزَارَهَا - آثَامَهَا حَتَّى لَا يَبْقَى إِلَّا مُسْلِمُ : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فَإِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّى إِذَا الْخَنَتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنَّا بَعْدُ وَ إِمَّا فِدَاءً حَتَّى تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا ( محمد : ۵) پس ( چاہیے کہ ) جب تم کافروں سے میدانِ جنگ میں ملو ، تو گردنیں کاٹو۔ یہاں تک کہ جب تم اُن کا خون بہالو ، تو خوب زور سے مشکیں کسو۔ پھر اس کے بعد یا تو احسان کر کے (ان کو چھوڑ دو) یا تاوانِ جنگ لے کر (چھوڑ دو) یہاں تک کہ لڑائی اپنے ہتھیار رکھ دے (یعنی ختم ہو جائے۔) (ترجمہ تفسیر صغیر) حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”جو لوگ اسلام کی دفاعی جنگوں کو جارحانہ اور جبراً مسلمان بنانے کی خاطر جنگ کہتے ہیں ان کا یہ آیت بشدت رڈ کرتی ہے کیونکہ یہی سب سے اچھا موقع ہو سکتا تھا کہ ان قیدیوں کو مسلمان بنا لیا جائے لیکن مسلمان بنانا تو در کنار ان کو ایمان نہ لانے کی صورت میں بھی آزاد کرنے کا حکم ہے۔ یہاں تک کہ اگر اس کا عوضانہ بھی نہ لو تو یہ بھی بہتر ہے۔“ (ترجمہ قرآن کریم حضرت خلیفة المسح الرابع سورة محمد حاشیه آیت ۵) أوزارها آقامها : یہاں دراصل آقامها سے جنگ کے گناہ و جرائم مراد ہیں۔ علامہ ثعلبی نے ان معانی کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جنگ میں دونوں گروہوں میں سے کسی ایک کی طرف سے لاز تا گناہ شامل رہتے ہیں اور اسی کی طرف اشارہ کرنے کے لیے آلامها یعنی "جنگ کے گناہ“ کہا گیا ہے۔ (الكشف والبيان عن تفسير القرآن للثعلبی، سورة محمد آیت ۵) پس حَتَّی تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَکا کہنے سے مراد یہ ہے کہ جنگ کی بُرائی ختم ہو جائے۔