صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 70 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 70

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۶۵ - کتاب التفسير / الأحقاف ہے۔کائناتِ عالم پر اصلی تصرف خالق کا ئنات کا ہے۔فرماتا ہے: هُوَ الَّذِی خَلَقَ لَكُم مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ فَسَوْهُنَّ سَبْعَ سَواتٍ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (البقرة: ۳۰) اور وہی ہے جس نے ہر شئے جو زمین میں ہے تمہارے لئے پیدا کی ہے اور پھر بلندی کی طرف متوجہ ہوا، اسے سات بلندیوں میں یکساں کیا اور وہی ہر شئے کا بخوبی علم رکھتا ہے۔اور سورۃ الفلق میں ہمیں ہدایت ہے کہ ہر شئے کے شر سے خالق کائنات کی پناہ ڈھونڈو۔کیونکہ خالق کائنات کے ارادہ سے وہ شئے جو خیر کا مصدر ہے، شر کا مصدر بھی ہو سکتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جس خوف و ہیم کا ذکر ہے، اس سے آپ کے عرفانِ کامل کا علم حاصل ہوتا ہے جو آپ کو خالق کون کے تصرفات سے متعلق حاصل تھا۔اس روایت میں جس آیت کا حوالہ دیا گیا ہے وہ یہ ہے: فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ اودِيَتِهِمْ قَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُبْطِرُنَا بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُم بِهِ رِيحٌ فِيهَا عَذَابُ الِيمُه تُدَمِّرُ كُلَّ شَيْءٍ بِاَمرِ رَبِّهَا فَاصْبَحُوا لَا يُرَى إِلَّا مَسْكِتُهُم كذلِكَ نَجْزِي الْقَوْمَ الْمُجْرِمِينَ (الأحقاف ۲۵، ۲۶) پس جب اس کی قوم نے اس عذاب کو ایک بادل کی صورت میں اپنی وادیوں کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے کہا: یہ ایک بادل ہے جو ہم پر بارش برسائے گا۔نہیں، بلکہ یہ وہ (عذاب) ہے جس کو تم جلدی مانگتے تھے۔یہ ایک ہوا ہے جس میں دردناک عذاب پوشیدہ ہے۔یہ ہوا اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو تباہ کرتی جائے گی۔پس نتیجہ یہ ہوا کہ اُن پر صبح ایسے وقت میں آئی کہ صرف ان کے گھر ہی نظر آتے تھے۔66 ط (سب قوم ریت میں دب گئی ) اس طرح ہم مجرم قوم کو جزا دیا کرتے ہیں۔“ ( صحیح بخاری ترجمه و شرح، کتاب بدء الخلق، باب مَا جَاءَ فِي قَوْلِهِ: وَهُوَ الَّذِي أَرْسَلَ الرِّيَاحَ، جلد ۶ صفحه ۳۱، ۳۲)