صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 69 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 69

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۶۹ ۶۵ - کتاب التفسير / الأحقاف يَا رَسُوْلَ اللهِ إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوُا ہیں۔حضرت عائشہ نے ) کہا: یا رسول اللہ ! لوگ الْغَيْمَ فَرِحُوْا رَجَاءَ أَنْ يَكُونَ فِيْهِ توجب بادل دیکھتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں اس امید الْمَطَرُ وَأَرَاكَ إِذَا رَأَيْتَهُ عُرِفَ فِي سے کہ اس میں بارش ہو گی اور میں آپ کو دیکھتی وَجْهِكَ الْكَرَاهِيَةُ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ مَا ہوں کہ جب بھی آپ بادل دیکھیں تو آپ کے يُؤْمِنِي أَنْ يَكُونَ فِيْهِ عَذَابٌ عُذِّبَ چہرے سے ناگواری معلوم ہوتی ہے۔آپ نے فرمایا: عائشہ مجھے کیا اطمینان کہ اس میں وہ آندھی قَوْمٌ بِالرِّيحِ وَقَدْ رَأَى قَوْمُ الْعَذَابَ فَقَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُبْطِرُنَا۔طرفه: ٣٢٠٦۔کا عذاب نہ ہو گا جو ایک قوم کو دیا گیا۔حالانکہ اس قوم نے عذاب کو دیکھا اور کہنے لگے : یہ بادل ہے (الأحقاف: ٢٥) جو ہم پر برسے گا۔تشريح۔فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضَا مُسْتَقْبِلَ اَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَذَا عَارِضُ مُمْطِرُنَا بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُم بِهِ رِيْحُ فِيهَا عَذَابٌ أَلِيمٌ ه (الأحقاف ۲۵) پس جب اس کی قوم نے اس عذاب کو ایک بادل کی صورت میں اپنی وادیوں کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے کہا: یہ ایک بادل ہے جو ہم پر بارش برسائے گا۔(ہم نے کہا) نہیں، یہ وہ (عذاب) ہے جس کو تم جلدی مانگتے تھے۔(یہ) ایک ہوا ہے جس میں درد ناک عذاب پوشیدہ ہے۔(ترجمہ تفسیر صغیر) روایت زیر باب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جس فکر کا ذکر ہے وہ آپ کو قوم کے ہدایت پانے اور انکار کی صورت میں ہلاکت کے متعلق تھی اور یہ فکر ہمیشہ آپ میں نظر آتی تھی۔روایات میں آپ کے متعلق دائم الفکر کا ذکر آتا ہے مگر اس کے ساتھ یہ ذکر بھی ہے کہ آپ کا چہرہ ہمیشہ ہشاش بشاش رہتا تھا۔یہ امر آپ کی انہی کیفیات کا آئینہ دار ہے۔ایک بنی نوع انسان کا غم جو ہمیشہ آپ پر مستولی رہتا اور دوسرا اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو ایک دائمی بشاشت بھی دی گئی تھی کیونکہ آپ مایوس انسانیت کو مژدہ جانفزا دینے اور لقائے باری تعالیٰ کی دائمی جنت کی بشارت دینے آئے تھے۔اس لیے آپ کے نذیر اور بشیر ہونے کی دونوں کیفیات آپ کے چہرہ سے ہویدہ تھیں۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں کہ ” اس باب۔۔۔سے بتایا گیا ہے کہ کس طرح ایک نفع بخش شئے نقصان دہ ہو جاتی ہے۔اس سے متصرف بالا رادہ قادر ، خالق کائنات کے وجود کا ثبوت واضح طور پر ملتا ہے جس نے تسخیر اشیاء کی قدرت انسان میں ودیعت کر کے عنانِ تصرف اپنے ارادے اور دست قدرت میں رکھی ہے۔جس سے ایک شئے خیر یا شر کا منبع ہو سکتی