صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 68 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 68

صحیح البخاری جلد ۱۲ YA ۶۵ - کتاب التفسير / الأحقاف مسواک پیش کرنے کی سعادت بھی ملی۔(روایت نمبر ۴۴۵۰) خلاصہ کلام یہ کہ حضرت عبد الرحمن بن ابی بکڑ کے تمام حالات واضح طور پر مروان بن حکم کی بات کی تردید کرتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ معنونہ آیت میں کافر اور نافرمان اولاد کا ذکر ہے اور اس میں عمومی رنگ میں نصیحت اور تنبیہ ہے کہ انسان کو ایسا بننے سے بچنا چاہیئے۔باب ۲ : فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُبْطِرُنَا بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِهِ رِيحٌ فِيهَا عَذَابٌ أَلِيمُ (الأحقاف : ٢٥) (اللہ تعالی کا فرمانا: ) جب انہوں نے بادل کو اپنی وادیوں کی طرف آتے دیکھا تو انہوں نے کہا: یہ بادل ( آرہا) ہے جو ہم پر برسے گا۔نہیں، بلکہ وہ چیز ہے جس کے متعلق تم نے جلدی کی تھی یہ آندھی ہے جس میں درد ناک عذاب ہے قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَارِضُ (الأحقاف : ٢٥) حضرت ابن عباس نے کہا: عارِض کے معنی السَّحَابُ۔ہیں بادل۔٤٨٢٨: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ حَدَّثَنَا ابْنُ ۳۸۲۸ : احمد بن عیسی) نے ہم سے بیان کیا کہ وَهْبٍ أَخْبَرَنَا عَمْرٌو أَنَّ أَبَا النَّضْرِ (عبد اللہ ) بن وہب نے ہمیں بتایا۔عمرو (بن حَدَّثَهُ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ حارث نے ہمیں خبر دی کہ ابو نضر (سالم) نے عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ اُن سے بیان کیا۔ابونضر نے سلیمان بن یسار صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ مَا رَأَيْتُ سے، سلیمان نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔وہ ضَاحِكًا حَتَّى أَرَى مِنْهُ لَهَوَاتِهِ۔فرماتی تھیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی اتنا بنتے نہیں دیکھا کہ میں آپ کا حلق إِنَّمَا كَانَ يَتَبَسَّمُ۔طرفه: ٦٠٩٢ - دیکھتی، بلکہ آپ صرف مسکرایا ہی کرتے تھے۔٤٨٢٩ : قَالَتْ وَكَانَ إِذَا رَأَى :۳۸۲۹ فرماتی تھیں: جب آپ ابر یا آندھی دیکھتے غَيْمًا أَوْ رِيْحًا عُرِفَ فِي وَجْهِهِ قَالَتْ تو آپ کے چہرے سے معلوم ہو تا کہ آپ متفکر لهوات سے مراد گوشت کا وہ ٹکڑا جو حلق میں لٹکا ہوتا ہے۔(اقرب الموارد)