صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 67
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۶۷ ۶۵ - کتاب التفسير / الأحقاف حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِيْ بِشْرٍ عَنْ ابو عوانہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابو بشر سے، يُوسُفَ بْن مَاهَكَ قَالَ كَانَ مَرْوَانُ ابو بشر نے یوسف بن ماہک سے روایت کی۔عَلَى الْحِجَازِ اسْتَعْمَلَهُ مُعَاوِيَةُ انہوں نے کہا: مروان ( بن حکم ) حجاز کا حاکم تھا فَخَطَبَ فَجَعَلَ يَذْكُرُ يَزِيْدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ جس کو معاویہ نے مقرر کیا تھا۔وہ لوگوں سے لِكَيْ يُبَايَعَ لَهُ بَعْدَ أَبِيْهِ فَقَالَ لَهُ مخاطب ہوا اور یزید بن معاویہ کی تعریفیں کرنے لگا تا کہ اس کے باپ کے بعد اس کی بیعت کی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ شَيْئًا جائے۔حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر نے سن کر فَقَالَ خُذُوْهُ فَدَخَلَ بَيْتَ عَائِشَةَ فَلَمْ کچھ ایسا ویسا کہا۔مروان نے کہا: اس کو گرفتار کر لو۔يَقْدِرُوْا عَلَيْهِ فَقَالَ مَرْوَانُ إِنَّ وہ حضرت عائشہ کے گھر چلے گئے اور وہ ان کو پکڑ هَذَا الَّذِي أَنْزَلَ اللَّهُ فِيْهِ وَالَّذِي نہ سکے۔مروان نے کہا: یہ وہ شخص ہے جس کے قَالَ لِوَالِدَيْهِ أن تكما العديني متعلق اللہ نے یہ وحی نازل کی: اور وہ جس نے (الأحقاف:۱۸) فَقَالَتْ عَائِشَةُ مِنْ اپنے والدین سے کہا: تم پر تف، کیا تم مجھے دھمکاتے وَرَاءِ الْحِجَابِ مَا أَنْزَلَ اللهُ فِيْنَا شَيْئًا ہو؟ حضرت عائشہ یہ سن کر پردہ کے پیچھے سے مِّنَ الْقُرْآنِ إِلَّا أَنَّ اللهَ أَنْزَلَ عُدْرِي بولیں: اللہ نے ہمارے متعلق قرآن میں کوئی آیت نہیں نازل کی سوائے اس کے کہ اللہ نے میری بریت نازل کی۔۔تشريح : وَالَّذِي قَالَ لِوَالِدَيْهِ أَي تَكُمَا اتعيد ننتي: روایت زیر باب میں امیر معاویہ کے دور حکومت کے اس واقعہ کا ذکر ہے جب مروان بن حکم نے امیر معاویہ کے کہنے پر اہل مدینہ کو یزید کی ولی عہدی قبول کروانے کی کوشش کی۔اس موقع پر حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ بھی اُن صحابہ میں سے تھے جنہوں نے اس بات کی بھر پور مخالفت کی۔حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر کے سامنے جب مروان کی کچھ پیش نہ چلی تو اُس نے ان کی کسر شان کرنے کے لیے انہیں سورۃ الاحقاف کی آیت ۱۸ کا مصداق قرار دے دیا۔اس کی یہ بات بالکل غلط اور بے بنیاد تھی۔جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کی پر زور تردید فرمائی ہے۔اس آیت کریمہ کا اطلاق حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ پر ہو ہی نہیں سکتا۔حضرت عبد الرحمن" تو صلح حدیبیہ کے موقع پر مسلمان ہو چکے تھے ، آپ نے ہجرت کی سعادت پائی۔مدینہ آگر صحبت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور اپنے والد بزرگوار کی خدمت کا موقع پایا۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری بیماری میں آپ کی خدمت میں