صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 66
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۶۶ ۶۵ - کتاب التفسير / الأحقاف ہو کیا اُن میں کوئی حقیقت بھی ہے۔اگر ہے تو مجھے ذرا بتاؤ تو کہ انہوں نے زمین میں سے کس چیز کو پیدا کیا ہے یا یہ تو ثابت کرو کہ آسمانی بادشاہت میں اُن کا کوئی حصہ ہے اور اگر تم سچے ہو تو اس کے لیے یا تو قرآن سے پہلے کی کسی آسمانی کتاب میں سے دلیل پیش کر دیا اپنے باپ دادوں کی بتائی ہوئی کسی علمی بات کو ہی پیش کرو۔یعنی تمام شرکیہ مسائل نہ تو کسی آسمانی کتاب سے ثابت ہیں نہ کسی علمی دلیل سے ثابت ہو سکتے ہیں۔پھر ان پر ایمان لانا کس طرح جائز اور ممکن ہو سکتا ہے۔“ ( تفسير كبير ، سورة البقرة آيت الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ ، جلد اوّل صفحه ۱۰۰،۹۹) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اس آیت کریمہ کے تفسیری ترجمہ میں بیان فرماتے ہیں: کیا تم نے دیکھا کہ جن لوگوں کو تم اللہ تعالیٰ کے سوا معبود ٹھہرا رہے ہو انہوں نے زمین میں کیا پیدا کیا اور یا اُن کو آسمان کی پیدائش میں کوئی شراکت ہے۔اگر اس کا ثبوت تمہارے پاس ہے اور کوئی ایسی کتاب ہے جس میں یہ لکھا ہو کہ فلاں فلاں چیز تمہارے معبود نے پیدا کی ہے تو لاؤ وہ کتاب پیش کرو اگر تم سچے ہو۔یعنی یہ تو ہو نہیں سکتا کہ یونہی کوئی شخص قادر مطلق کا نام رکھالے اور قدرت کا کوئی نمونہ پیش نہ کرے اور خالق کہلائے اور خالقیت کا کوئی نمونہ ظاہر نہ کرے۔“ جنگ مقدس، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۱۳۷) باب ۱ وَالَّذِي قَالَ لِوَالِدَيْهِ أَنْ نَكُمَا آتَعِدُنِنِي أَنْ أَخْرَجَ وَقَدْ خَلَتِ الْقُرُونُ مِن قَبْلِي وَهُمَا يَسْتَقِيَانِ اللهَ وَيُلَكَ مِنْ * إِنَّ وَعْدَ اللهِ حَقٌّ فَيَقُولُ مَا هُذَا إِلَّا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ (الأحقاف: ١٨) اور وہ جس نے اپنے والدین سے کہا: تم پر تف، کیا تم مجھے دھمکاتے ہو کہ میں دوبارہ (زمین سے) پیدا کیا جاؤں گا۔حالانکہ مجھ سے پہلے کئی صدیاں گزرگئیں۔اور وہ دونوں اللہ سے فریاد کر رہے تھے : وائے تجھ پر ! مان لو اللہ کا وعدہ یقینا سچا ہے، تو وہ کہتا تھا: یہ صرف پہلوں کی کہاوتیں ہی ہیں ٤٨٢٧: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ۴۸۲۷: موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ