صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 65 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 65

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۶۵ ۶۵ - کتاب التفسير / الأحقاف کیا اسلوب تھے، اُن کی تعلیم کیا تھی، اُن کے اصحاب نے ان کو پہلے پہل کس طرح مانا۔اُن کے مخالفوں اور منکروں کا چال چلن کیسا تھا اور ان کا انجام کیا ہوا؟؟ یہ ایک ایسا اصل تھا کہ اگر اس وقت کے لوگ اس معیار پر غور کرتے تو ان کو ذرا سی دقت پیش نہ آتی۔اور ایک مجدد، مہدی، مسیح، مرسل من اللہ کے ماننے میں ذرا بھی اشکال نہ ہوتا۔مگر اپنے خیالات ملکی اور قومی رسوم، بزرگوں کی عادات کے ماننے میں تو بہت بڑی وسعت سے کام لیتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے ماموروں اور اس کے احکام کے لئے خدا کے علم اور حکمت کے پیمانہ کو اپنی ہی چھوٹی سی کھوپڑی سے ناپنا چاہتے ہیں۔ہر ایک امام کی شناخت کے لئے یہ عام قاعدہ کافی ہے کہ کیا یہ کوئی نئی بات لے کر آیا ہے۔اگر اس پر غور کرے تو تعجب کی بات نہیں ہے، جو اللہ تعالیٰ اصل حقیقت کو اس پر کھول دے۔ہاں یہ ضروری ہے کہ اپنے آپ کو بیچ سمجھے اور تکبر نہ کرے۔ورنہ تکبر کا انجام یہی ہے کہ محروم رہے۔“ ( حقائق الفرقان جلد ۳ صفحه ۵۷۶،۵۷۵) اَروَيْتُه : اللہ تعالیٰ کا قول اَرعَيْتُم آنکھ کا دیکھنا نہیں، بلکہ یہ صرف ان معنوں میں ہے کہ کیا تم جانتے ہو ؟ فرماتا ہے: قُلْ اَرَعَيْتُمْ مَا تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ أَرُونِي مَا ذَا خَلَقُوا مِنَ الْأَرْضِ أَمْ لَهُمْ شِرْكُ فِي السَّمَوتِ ايْتُونِي يكتب مِنْ قَبْلِ هَذَا أَوْ آثَرَةٍ مِنْ عِلْمٍ إِن كُنتُم صدِقِينَ ( الأخفاف:۵) یعنی تو (ان سے) کہہ دے کہ مجھے بتاؤ تو سہی کہ جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو انہوں نے زمین کی کون کونسی چیز پیدا کی ہے ؟ یا اُن کا آسمان کی پیدائش میں کوئی دخل ہے ؟ اگر تم اس دعویٰ میں بچے ہو ، تو اس سے پہلے کی کسی کتاب کی دلیل پیش کرو۔یا اگر کوئی کتاب نہیں اور) تم سچے ہو تو کوئی علمی دلیل ہی پیش کرو۔(ترجمہ تفسیر صغیر) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قرآن کریم کی متعدد آیات میں اس امر پر زور دیا گیا ہے کہ ایمان دلائل اور " براہین پر مبنی ہونا چاہیے نہ کہ وہم اور گمان پر۔چنانچہ سورۃ احقاف (ع۱) میں فرماتا ہے: قُلْ اَرَعَيْتُمْ مَا تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَرُونِي مَا ذَا خَلَقُوا مِنَ الْأَرْضِ ام لَهُمْ شِرُكَ فِي السَّبُوتِ ايْتُونِى بِكِتُبِ مِنْ قَبْلِ هَذَا أَوْ أَثْرَةٍ مِّنْ عِلْمٍ إِنْ كنتم صدقین یعنی مجھے بتاؤ تو سہی کہ خدا کے سوا جن وجودوں کو تم پکارتے