صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 64 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 64

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۶۴۴ ۶۵ - کتاب التفسير / الأحقاف ٤٦ - سُوْرَةُ الْأَحْقَافِ وَقَالَ مُجَاهِدٌ: تُفِيضُونَ (الأحقاف: ۹) اور مجاہد نے کہا: تُفِيضُونَ کے معنی ہیں تم کہتے تَقُولُونَ۔ وَقَالَ بَعْضُهُمْ أَثَرَةٍ وَأُثْرَةٍ وَ ہو۔ اور بعضوں نے کہا: أَثَرَةِ، أَثَرَةِ اور آثرَةِ آثرَة (الأحقاف: ٥) بَقِيَّةٌ مِنْ عِلْمٍ ۔ تینوں قراء تیں ہیں اور ان کے معنی ہیں بقیہ علم ۔ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : بِدُعَا مِنَ الرُّسُلِ اور حضرت ابن عباس نے کہا: بِدْعَا مِنَ الرُّسُلِ (الأحقاف: ١٠) لَسْتُ بِأَوَّلِ الرُّسُلِ کے یہ معنی ہیں کہ میں پہلا رسول تو نہیں ہوں۔ وَقَالَ غَيْرُهُ: اَرعَيْتُمُ (الأحقاف: ٥) اور حضرت ابن عباس کے سوا) اوروں نے کہا: ( أَرَعَيْتُمْ مَا تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ میں ) أَرَعَيْتُمُ هَذِهِ الْأَلِفُ إِنَّمَا هِيَ تَوَعُدٌ إِنْ صَحَّ کا ہمزہ صرف دھمکی دینے کے لئے ہے۔ یعنی جو تم مَا تَدَّعُوْنَ لَا يَسْتَحِقُّ أَنْ يُعْبَدَ۔ دعوی کرتے ہو، اگر یہ صحیح ہے تو بھی یہ چیزیں وَلَيْسَ قَوْلُهُ أَرَعَيْتُمُ بِرُؤْيَةِ الْعَيْنِ إِنَّمَا پوجے جانے کی مستحق نہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کا قول هُوَ أَتَعْلَمُونَ أَبَلَغَكُمْ أَنَّ مَا تَدْعُوْنَ اریتم آنکھ کا دیکھنا نہیں، بلکہ یہ صرف ان مِنْ دُونِ اللَّهِ خَلَقُوا شَيْئًا۔ معنوں میں ہے کہ کیا تم جانتے ہو ؟ کیا تمہیں یہ خبر پہنچی ہے کہ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو انہوں نے کچھ پیدا بھی کیا۔ تشريح ۔ بدعا مِنَ الرُّسُلِ: الله تعالی فرماتا ہے: قُلْ : قُلْ مَا كُنتُ بِدُعَا مِنَ الرُّسُلِ وَ مَا أَدْرِي مَا يُفْعَلُ بِي وَلَا بِكُمْ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَى وَمَا أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ مُّبِينٌ ( الأحقاف: ١٠) یعنی تو ان سے کہہ دے کہ میں دنیا میں پہلا رسول تو نہیں آیا مجھ سے پہلے اور کئی رسول گزر چکے ہیں اور ) میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ خدا کیا معاملہ کرے گا اور نہ یہ جانتا ہوں کہ تمہارے ساتھ کیا معاملہ کرے گا۔ میں تو صرف اس وحی کی اتباع کرتا ہوں جو مجھ پر نازل ہوئی ہے۔ اور میں تو صرف ایک کھلا کھلا ڈرانے والا ہوں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”ہمارے سید و مولا فرماتے ہیں کہ مَا كُنتُ بِدُعَا مِنَ الرُّسُلِ۔ میں کوئی نیا رسول تو نہیں آیا۔ آدم سے لے کر اب تک جو رسول آئے ہیں اُن کو پہچانو۔ ان کی معاشرت، تمدن اور سیاست کیسی تھی اور ان کا انجام کیا ہوا؟ اُن کی صداقت کے