صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 63 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 63

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۶۳ ۶۵ - کتاب التفسير / الجاثية لفظ الدھر کے بنیادی معنی غالب آنے کے ہیں۔ زمانہ کو دھر اس لیے کہتے ہیں کہ وہ ہر چیز پر سے گذرتا اور اس پر غالب آجاتا ہے۔ (مقاییس اللغة - دھر) اس آیت کریمہ میں بتایا گیا ہے کہ زمانہ کو موت وحیات کا مالک سمجھنے والے غلطی خوردہ ہیں۔ مالک حقیقی اور قادر مطلق اللہ تعالیٰ ہے۔ وہ زمانے کا بھی خالق اور مالک ہے۔ اس کی ایک صفت فعال لِمَا يُرِيدُ بھی ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: لوگ زمانہ کو بُرا کہتے ہیں۔ شاعروں نے تو یہ غضب کیا کہ دنیا کا ہر ایک دُکھ اور مصیبت زمانہ کے سر تھوپ دیا۔ خدا تعالیٰ کا نام ہی درمیان سے نکال دیا۔ گردش روزگار کی اس قدر شکایت کی ہے جس کی حد نہیں۔ گویا ان کا دار و مدار، ان کا نافع اور ضار سب کچھ زمانہ ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: زمانہ کی شکایت نہ کرو۔ یہ بھی قابلِ قدر چیز ہے۔“ حقائق الفرقان جلد ۴ صفحه ۴۵۵)