صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 62 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 62

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۶۳ ۶۵ - کتاب التفسير / الجاثية ہے: وَقِيلَ الْيَوْمَ نَفْسُكُمْ كَمَا نَسِيتُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمُ هُذَا وَ مَا نَكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِّنْ تُصِرِينَ (الجالية : ۳۵) یعنی اور اُن سے کہا جائے گا کہ آج ہم نے تم کو اسی طرح بے مدد چھوڑ دیا ہے جس طرح کہ تم نے اس دن کی ملاقات کے خیال کو چھوڑ دیا تھا اور تمہارا ٹھکانہ آگ ہوگا اور کوئی تمہاری مدد کرنے والا نہیں ہوگا۔ عذاب میں چھوڑ دیئے جانے سے مراد ان کی سزا کا لمبا ہوتا ہے۔ یہ مضمون قرآن کریم میں اس طرح بھی ملتا ہے کہ وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَ كَذَّبُوا بايتنَا أُولَئِكَ أَصْحُبُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَلِدُونَ (البقرۃ: ۴۰) یعنی اور جو (لوگ) کفر کریں گے اور ہماری آیات کو جھٹلائیں گے وہ (ضرور) دوزخ ( میں پڑنے والے ہیں، وہ اس میں رہتے چلے جائیں گے۔ ایک اور موقع پر فرمایا ہے: لبدينَ فِيهَا احْقَابًا (النبأ: ۲۴) یعنی وہ اس میں برسوں رہتے چلے جائیں گے۔ بَاب : وَمَا يُهْلِكُنَا إِلَّا الدَّهْرُ (الجاثية : ٢٥) الْآيَةَ} اور زمانہ ہی ہمیں (اپنے اثر سے) ہلاک کرتا ہے ٤٨٢٦ : حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا ۴۸۲۶: (عبد اللہ بن زبیر ) حمیدی نے ہم سے سُفْيَانُ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ بیان کیا کہ سفیان بن عیینہ) نے ہمیں بتایا کہ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ زُہری نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے سعید بن عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ مسیب سے ، سعید نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ سے روایت کی۔ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ يُؤْذِينِي ابْنُ آدَمَ يَسُبُّ الدَّهْرَ وَأَنَا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عز و جل فرماتا ہے: الدَّهْرُ بِيَدِي الْأَمْرُ أُقَلِّبُ اللَّيْلَ مجھے ابن آدم تکلیف دیتا ہے۔ وہ زمانہ کو گالیاں دیتا ہے اور زمانہ میں ہوں، سب حکم میرے ہاتھ وَالنَّهَارَ۔ أطرافه: ٦١٨١، ٧٤٩١- میں ہے ، میں ہی رات اور دن کو چکر دیتا ہوں۔ تشريح۔ وَمَا يُهْلِكُنا إِلَّا اللهُرُ اللَّه تعالیٰ فرماتاہے: وَقَالُوا مَا هِيَ إِلَّا حَيَاء الا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوتُ وَ وَنَحْيَا وَمَا يُهْلِكُنَّا إِلَّا الدَّهْرُ وَمَا لَهُمْ بِذلِكَ مِنْ عِلْمٍ إِنْ هُمْ إِلَّا يَظُنُّونَ (الجاثية :۲۵) اور وہ کہتے ہیں کہ یہی ورلی زندگی ہمارے لیے مقدر ہے۔ اسی زندگی کو گزارتے ہوئے ہم مریں گے اور اسی کا لطف اُٹھاتے ہوئے ہم زندہ رہیں گے اور زمانہ ہی ہمیں (اپنے اثر سے ) ہلاک کرتا ہے لیکن اُن کو اس بات کا کوئی حقیقی علم نہیں، وہ صرف ڈھکونسلے مار رہے ہیں۔ ا یہ عنوان باب فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے۔ ( فتح الباری جزء ۸ حاشیہ صفحہ ۷۳۰) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔