صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 61
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۶۱ ٤٥ سُوْرَةُ الْجَاثِيَةِ ۶۵ -۶ کتاب التفسير / الجاثية جَاثِيَةً (الجاثية : ٢٩) مُسْتَوْفِرِينَ عَلَى جَاثِيَةٌ کے معنی ہیں زانو ؤں کے بل جلدی سے الرُّكَبِ۔وَقَالَ مُجَاهِدٌ: نَسْتَنْسِخُ اُٹھ بیٹھنے والی۔اور مجاہد نے کہا: تستنسخ کے معنی (الجاثية: ٣٠) نَكْتُبُ نَنسكُم (الجاثية : ٣٥) ہیں ہم لکھتے ہیں۔ننسکم ہم تمہیں چھوڑ دیں گے۔نَتْرُكُكُمْ۔تشریح : جَاثِيَةٌ سے اس آیت کی طرف اشارہ ہے: وَتَرَى كُلَّ أُمَّةٍ جَانِيَةً كُن أُمَّةٍ تُدعى إلى كتبِهَا الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ) (الجالية: ٢٩) یعنی اور تُو ہر ایک اُمت کو دیکھے گا کہ وہ زمین پر گھٹنوں کے بل گری ہوئی ہوگی۔ہر ایک قوم کو اپنی شریعت کی طرف بلایا جائے گا۔اس دن تم کو تمہارے اعمال کے مطابق جزا دی جائے گی۔(ترجمہ تفسیر صغیر) اس سے مراد یہ ہے کہ قیامت کے ہیبت ناک نشان کو دیکھ کر ہر کوئی گھٹنوں کے بل زمین پر گر جائے گا۔یعنی اللہ تعالٰی کے جلال کے سامنے سجدہ ریز ہو گا۔نستنسخ کے معنی ہیں ہم لکھتے ہیں۔پوری آیت یہ ہے: هذا كِتَبْنَا يَنْطِقُ عَلَيْكُمْ بِالْحَقِّ إِنَّا كُنَا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ) (الجاثية :۳۰) یعنی ( اور ہم کہیں گے دیکھو) یہ ہماری کتاب ہے جو تمہارے خلاف سچی سچی شہادت دے رہی ہے۔جو کچھ تم عمل کرتے تھے ہم اس کو لکھتے جاتے تھے۔(ترجمہ تفسیر صغیر) اس آیت کریمہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ انسان کا ہر عمل اللہ تعالیٰ کے وسیع اور دائمی قانون میں ریکارڈ ہو رہا ہے۔اور وہ قیامت کے دن اس کے لئے ایک کتاب کی صورت میں پیش کیا جائے گا۔اور وہ اپنے اعمال نامہ کو دیکھ کر حیران ہو کر کہے گا: مَالِ هذا الكتب لا يُغَادِرُ صَغِيرَةً وَلَا كَبِيرَةً إِلَّا أَحْصُهَا ( الكهف:۵۰) یعنی اس کتاب کو کیا (ہوا) ہے کہ نہ کسی چھوٹی بات کو اس کا احاطہ کئے بغیر چھوڑتی ہے اور نہ کسی بڑی بات کو۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کو سریع الحساب قرار دیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی انسان اللہ تعالیٰ کے تصرف سے باہر نہیں جاسکتا اور اس کی پکڑ سے بچ نہیں سکتا۔کیونکہ اس کا ہر عمل ریکارڈ ہو رہا ہے۔جیسا کہ فرمایا: وَلَدَيْنَا كِتَبُ يَنْطِقُ بِالْحَقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ ) (المؤمنون: ۶۳) اور ہمارے پاس ایک اعمال نامہ ہے جو سچی سچی بات کہتا ہے اور اُن پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا۔نیز اس بات کو بیان فرمایا کہ یہ ریکار ڈ انسان کے وجود میں محفوظ کیا جارہا ہے اور قیامت کے دن اس کے وجود کا ہر ذرہ اس ریکارڈ کو بیان کرے گا۔جیسا کہ فرمایا: حَتَّى إِذَا مَا جَاءُوهَا شَهِدَ عَلَيْهِمْ سَبْعُهُمْ وَأَبْصَارُهُمْ وَجُلُودُهُمْ بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (لحم السجدۃ: ۲۱) یہاں تک کہ جب وہ دوزخ کے پاس پہنچ جائیں گے اُن کے کان اور اُن کی آنکھیں اور اُن کے چڑے اُن کے عمل کی وجہ سے اُن کے خلاف گواہی دیں گے۔ننسكم : امام بخاری نے اس کے معنی کیوی گھر بیان کیے ہیں۔یعنی ہم تمہیں چھوڑ دیں گے۔اللہ تعالیٰ فرماتا