صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 60
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۶۰ ۶۵ - کتاب التفسير / حم الدخان اس وقت بھی اللہ تعالیٰ نے کسوف و خسوف کا ایک نشان دکھایا اور یہ مسیح موعود اور مہدی کے لیے مخصوص تھا اور ابتدائے دُنیا سے کبھی اس رنگ میں یہ نشان نہیں دکھایا گیا تھا۔ یہ صرف مسیح موعود ہی کے زمانہ کے لیے رکھا گیا تھا اور احادیث میں آیات مہدی میں سے اسے قرار دیا گیا ہے، جس کی بابت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ میرے ہی نام پر آئے گا۔ اس میں یہی نکتہ ہے کہ جو نشانات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیئے گئے تھے ، اس رنگ کے نشان یہاں بھی دیئے جانے ضروری تھے۔ کیونکہ یہ آمد آپ ہی کی ہے۔“ نیز آپ نے فرمایا: ( ملفوظات جلد دوم صفحہ ۴۲) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں بھی شق قمر کی یہی حکمت تھی کہ جن کو پہلی کتابوں کے علم کا نور ملا تھا وہ لوگ اس ٹور پر قائم نہ رہے اور ان کی دیانت اور امانت ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی۔ سو اس وقت بھی آسمان کے شق القمر نے ظاہر کر دیا کہ زمین میں جو لوگ نور کے وارث تھے انہوں نے تاریکی سے پیار کیا ہے اور اس جگہ یہ بات قابل افسوس ہے کہ مدت ہوئی کہ آسمان کا خسوف کسوف جو رمضان میں ہوا وہ جاتا رہا اور چاند اور سورج دونوں صاف اور روشن ہو گئے مگر ہمارے وہ علماء اور فقراء جو شمس العلماء اور بدر العرفاء کہلاتے ہیں وہ آج تک اپنے کسوف خسوف میں گرفتار ہیں۔“ (ضمیمہ رسالہ انجام آتھم ، روحانی خزائن جلد ۱۱ صفحه ۲۹۵)