صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 59 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 59

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۹ ۶۵ - کتاب التفسير / حم الدخان اسلامی ممالک کے کچھ حصے دبا لیں گے۔اور اسلامی بادشاہوں کے ممالک اُن کی بد چلنیوں کے وقت میں اُسی طرح نصاری کے قبضے میں آجائیں گے جیسا کہ اسرائیکی بادشاہوں کی بدچلنیوں کے وقت رومی سلطنت نے ان کا ملک دبا لیا تھا۔پس واضح ہو کہ یہ پیشگوئی ہمارے اس زمانہ میں پوری ہوگئی۔اس جگہ بروزی طور پر روم سے روس اور دوسری عیسائی سلطنتیں مراد ہیں جو عیسائی مذہب رکھتی ہیں۔یہ آیت اوّل اس موقعہ پر نازل ہوئی تھی جبکہ کسری شاہ ایران نے بعض حدود پر لڑائی کر کے قیصر شاہ روم کو مغلوب کر دیا تھا۔پھر جب اس پیشگوئی کے مطابق بضع سنین میں قیصر روم شاہ ایران پر غالب آگیا تو پھر یہ آیت نازل ہوئی کہ غُلِبَتِ الرُّومُ في أَدْنَى الْأَرْضِ (الروم : ۴۳) جس کا مطلب یہ تھا کہ رومی سلطنت اب تو غالب آگئی مگر پھر بضع سنین میں اسلام کے ہاتھ سے مغلوب ہوں گے۔مگر باوجود اس کے کہ دوسری قراءت میں غلبت کا صیغہ ماضی معلوم تھا اور سَيُغْلَبُونَ کا صیغہ مضارع مجہول تھا مگر پھر بھی پہلی قراءت جس میں غُلِبَت کا صیغہ ماضی مجہول تھا اور سَيَغْلِبُونَ مضارع معلوم تھا منسوخ التلاوت نہیں ہوئی۔بلکہ اسی طرح جبرائیل علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن شریف سناتے رہے جس سے اس سنت اللہ کے موافق جو قرآن شریف کے نزول میں ہے یہ ثابت ہوا کہ ایک مرتبہ پھر مقدر ہے کہ عیسائی سلطنت روم کے بعض حدود کو پھر اپنے قبضہ میں کرلے گی۔اسی بنا پر احادیث میں آیا ہے کہ مسیح کے وقت میں سب سے زیادہ دنیا میں روم ہوں گے یعنی نصاری۔اس تحریر سے ہماری غرض یہ ہے کہ قرآن اور احادیث میں روم کا لفظ بھی بروزی طور پر آیا ہے یعنی روم سے اصل روم مراد نہیں ہیں بلکہ نصاریٰ مراد ہیں۔" (تحفہ گولڑویہ ، روحانی خزائن جلد اصفحہ ۳۰۸٬۳۰۷) شق القمر کے نشان کا تعلق آخرین کے زمانہ سے سمجھنے کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا درج ذیل اقتباس ملاحظہ کیجیئے۔آپ نے فرمایا: " دوسرابڑا عظیم الشان معجزہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا شق القمر تھا اور شق القمر دراصل ایک قسم کا خسوف ہی تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اشارہ سے ہوا۔