صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 58
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۸ ۶۵ - کتاب التفسير / حم الدخان جہان کی اقوام کو اس سے ڈرایا ہے۔وہ عذاب عالمگیر ہے کسی ایک قطعہ زمین سے محدود نہیں، نہ ایک قوم سے مخصوص۔اس کے عالمگیر ظہور سے ہی آنحضرت کی نسبت یہ نوشتہ پورا ہو گا لِيَكُونَ لِلْعَلَمِينَ نَذِيران (الفرقان: ۲) ( صحیح بخاری ترجمه و شرح، کتاب التفسیر ، باب فَسَوْفَ يَكُونُ لِزَامًا، جلدا اصفحه ۱۲۶) حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”یہاں یہ پیشگوئی بھی فرمائی کہ اس قسم کا عذاب وقفہ وقفہ سے آئے گا۔یعنی ایک عالمی جنگ کی ہلاکت خیزیوں کے بعد کچھ عرصہ مہلت دی جائے گی، اس کے بعد پھر اگلی عالمی جنگ نئی ہلاکتیں لے کر آئے گی۔“ ( ترجمہ قرآن کریم حضرت خلیفہ المسیح الرابع ، تعارف سورۃ الدخان، صفحه ۸۸۶) خَمْسٌ قَد مَضَيْنَ الاَمُ وَالرُّومُ وَالْبَطْشَةُ وَالْقَمَرُ وَالدُّخَانُ: حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کا بیان کہ یہ پانچوں پیشگوئیاں پوری ہو چکی ہیں، اپنی جگہ درست ہے۔ایک رنگ میں یہ پیشگوئیاں پوری ہو چکی ہیں۔چنانچہ اللزام سے مراد جنگوں کی صورت میں وہ عذاب ہے جو مخالفین اسلام پر اس تواتر سے جاری رہا کہ گویا ان کے ساتھ چمٹ گیا تھا۔اور بطشة سے مراد وہ پہلی پکڑ ہے جس نے جنگ بدر کی صورت میں مخالفین کو اس طرح پکڑا کہ ان کی طاقت خاک میں مل گئی۔نیز روم کی مغلوبیت، شق القمر اور قحط کے واقعات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگیوں میں بڑی شان سے ظاہر ہوئے۔لے لیکن حقیقت یہ ہے کہ جیسے یہ پیشگوئیاں اسلام کے دور اول میں پوری ہوئیں، دورِ آخرین میں بھی ان کا نمایاں شان کے ساتھ ظہور ہونا مقدر ہے۔اللہ خان اور البطقة کے متعلق تو وضاحت ابھی گذر چکی ہے کہ ان سے مراد عالمگیر عذاب اور بہت وسیع پیمانے پر ظاہر ہونے والی تباہیاں ہیں۔اور التزام کے متعلق سورۃ الفرقان کی تشریح میں گذر چکا ہے کہ اس سے مراد ابن اللہ کا عقیدہ رکھنے والی مشترک اقوام کی ہلاکت خیز گرفت ہے۔وہی اقوام جن کا ذکر یا جوج ماجوج اور دجال اعور کے ناموں سے بھی ملتا ہے۔(تفصیل کے لیے دیکھتے صحیح بخاری ترجمہ و شرح حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب، جلد ۱ صفحه ۱۲۵) غلبت الروم کی پیشگوئی کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: حدیثوں سے ثابت ہے کہ روم سے مراد نصاری ہیں۔اور وہ آخری زمانہ میں پھر غلبت الروم کے واقعہ کی وضاحت کے لیے دیکھئے کتاب بدء الوحی تشریح روایت نمبرے، جلد اصفحہ ۲۹۔کفار قریش پر قحط کا ذکر کتاب الاستسقاء تشریح باب ۲ جلد ۲ صفحہ ۴۰۳ میں گذر چکا ہے اور شق القمر کے معجزہ کا تفصیلی ذکر سورۃ القمر کی تشریح میں دیکھا جا سکتا ہے۔