صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 57 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 57

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۷ -۲۵ کتاب التفسير / حم الدخان أَيُكْشَفُ عَنْهُمْ عَذَابُ الْآخِرَةِ فَقَدْ میں (یہ الفاظ ) ہیں: تو پھر انہوں نے یہ آیت مَضَى الدُّحَانُ وَالْبَطْشَةُ وَاللَّزَامُ وَقَالَ پڑھی فَارْتَقِبُ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ۔(حضرت -۔۔۔أَحَدُهُمُ الْقَمَرُ وَقَالَ الْآخَرُ الرُّومُ۔ابن مسعودؓ نے کہا: ) بھلا آخرت کا عذاب بھی ہٹایا جائے گا۔دخان (دھواں)، بطشه (سخت گرفت) اور لزام (چھٹنے والا عذاب) تو گزر چکے۔اور ان راویوں میں سے ایک نے شق القمر بھی کہا اور دوسرے نے روم بھی کہا۔أطرافه : ۱۰۰۷، ۱۰۲۰، ٤٦۹۳ ٤٧٦٧، ٤٧٧٤، ٤۸۰۹، ٤٨٠، ٤٨٢١، ٤٨٢٢، -٤٨٢٣، ٤٨٢٥ بَاب ٦ : يَوْمَ نَبْطِشُ البَطْشَةَ الكُبرى : إِنَّا مُنتَقِمُونَ (الدخان: ۱۷) جس دن ہم بڑی گرفت میں تم کو لے آئیں گے (تم پر گھل جائے گا کہ) ہم انتقام لینے پر قادر ہیں ٤٨٢٥: حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا ۴۸۲۵: يبجي (بن موسیٰ بھی) نے ہم سے بیان کیا وَكِيعٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ که وکیع بن جراح) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے مَّسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ خَمْسٌ قَدْ اعمش سے، اعمش نے مسلم سے، مسلم نے مسروق مَضَيْنَ اللّزَامُ وَالرُّومُ وَالْبَطْشَةُ سے مسروق نے حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ) سے روایت کی۔انہوں نے کہا: پانچ پیشگوئیاں ہیں جو گزر چکیں۔لزام (چھٹنے والا عذاب)، روم، بطشه (سخت گرفت)، قمر اور دخان (دھواں)۔وَالْقَمَرُ وَالدُّحَانُ۔أطرافه: ١٠٠٧، ،٤٨، ٤٨٢٢۲۱ ،۴۸۲۰ ،۴۸۰۹ ،٤٦، ٤٧٦٧، ٤٧٧٤۹۳ ،۱۰۲۰ -٤٨٢٣، ٤٨٢٤ مريح : يَوْمَ تَبْطِشُ البَطْشَةَ الكبرى ، انا منتقمون: حضرت سید زین العابدین ولی الله شاه صاحب رضی اللہ عنہ اس بارہ میں فرماتے ہیں: "سورة دخان میں جس بطقة الكبری اور ہلاکت خیز تباہی کا ذکر ہے وہ یقیناً ایک ایسی تباہی ہے جو بہت ہی بڑے وسیع پیمانے پر ظاہر ہونے والی ہے اور ابھی تک وہ ظہور پذیر نہیں ہوئی۔لیکن اب ہم اس کے دروازے پر ہیں جیسا کہ اس زمانے کے نذیر نے کھول کھول کر ڈنکے کی چوٹ سے مختلف پیرائیوں میں اسے بیان کیا اور سارے