صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 56
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۶ ۶۵ - کتاب التفسير / حم الدخان دور بَابه : ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْهُ وَقَالُوا مُعَلَّم مَجْنُونَ )) مجنون (الدخان: ١٥) اور اس سے پیٹھ پھیر کر چلے گئے اور کہنے لگے: یہ کسی کا سکھایا ہوا پاگل ہے اور ٤٨٢٤ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ۴۸۲۴ بشر بن خالد نے ہم سے بیان کیا کہ محمد أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ عَنْ شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ بن جعفر ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے شعبہ سے ، وَمَنْصُورٍ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنْ مَّسْرُوقِ شعبہ نے سلیمان اور منصور سے، انہوں نے ابوالضحیٰ سے ، ابوالضحیٰ نے مسروق سے روایت قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ قُلْ مَا کی۔ وہ کہتے تھے: حضرت عبداللہ بن مسعود) نے کہا: اللہ نے محمد صلی اللہ علم کو مبعوث کیا اور فرمایا: اسْلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَ مَا أَنَا مِنَ تو کہہ دے کہ میں اس ( تبلیغ) پر تم سے کوئی اجر الْمُتَكَلِّفِينَ (ص: ۸۷) فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ نہیں مانگتا اور نہ میں تکلف سے بات کرنے کا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَأَى قُرَيْشًا عادی ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ ہم نے جب قریش کو اسْتَعْصَوْا عَلَيْهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ أَعِنِّي دیکھا کہ وہ آپ کے مقابل اڑ گئے ہیں تو آپ نے عَلَيْهِمْ بِسَبْعٍ كَسَبْعِ يُوسُفَ فَأَخَذَتْهُمُ یہ دعا کی: اے اللہ ! ان کو مغلوب کرنے کے لئے السَّنَةُ حَتَّى حَصَّتْ كُلَّ شَيْءٍ حَتَّى تو میری مدرسات سال (قط) سے فرما جو یوسف أَكَلُوا الْعِظَامَ وَالْجُلُودَ وَقَالَ أَحَدُهُمْ کے سالوں کی طرح ہوں۔ چنانچہ قحط نے ان کو حَتَّى أَكَلُوا الْجُلُودَ وَالْمَيْتَةَ وَجَعَلَ ایسا آپکڑا کہ اس نے ہر ایک چیز کو فنا کر دیا۔ يَخْرُجُ مِنَ الْأَرْضِ كَهَيْئَةِ الدُّخَانِ نوبت یہاں تک پہنچی کہ انہوں نے ہڈیاں اور کھائیں کھائیں۔ راویوں میں سے ایک نے کہا: فَأَتَاهُ أَبُو سُفْيَانَ فَقَالَ أَيْ مُحَمَّدُ إِنَّ یہاں تک کہ کھا لیں اور مردار کھائے اور زمین قَوْمَكَ قَدْ هَلَكُوا فَادْعُ اللَّهَ أَنْ سے ایک دھواں سا نکلنے لگا۔ تب ابو سفیان آپ يَكْشِفَ عَنْهُمْ فَدَعَا ثُمَّ قَالَ تَعُودُوا کے پاس آیا اور کہنے لگا: محمد ا تمہاری قوم تو ہلاک بَعْدَ هَذَا فِي حَدِيثِ مَنْصُورٍ ثُمَّ قَرَأَ ہو گئی۔ اللہ سے دعا کرو کہ ان سے عذاب ہٹائے۔ فَارْتَقِبُ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُ خَانٍ مُّبِيْنٍ آپ نے دعا کی اور آپؐ نے فرمایا: اس کے بعد پھر إِلَى عَابِدُونَ (الدخان: ١١ - ١٦) تم ویسے کے ویسے ہو جاؤ گے۔ منصور کی حدیث