صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 56
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۶ -۲۵ کتاب التفسير / حم الدخان باب ٥ : ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْهُ وَقَالُوا مُعَلَّم مَجْنُونٌ (الدخان: ١٥) اور اس سے پیٹھ پھیر کر چلے گئے اور کہنے لگے : یہ کسی کا سکھایا ہوا پاگل ہے ٤٨٢٤ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ :۴۸۲۴ بشر بن خالد نے ہم سے بیان کیا کہ محمد أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ عَنْ شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ (بن جعفر) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے شعبہ سے، وَمَنْصُورٍ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنْ مَّسْرُوقِ شعبہ نے سلیمان اور منصور سے، انہوں نے قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ بَعَثَ مُحَمَّدًا ابوالضحی سے، ابو الصحفی نے مسروق سے روایت صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ قُلْ مَا کی۔وہ کہتے تھے: حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ) نے کہا: اللہ نے محمد صلی اللی کام کو مبعوث کیا اور فرمایا: اسْلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَ مَا أَنَا مِنَ تو کہہ دے کہ میں اس ( تبلیغ) پر تم سے کوئی اجر المُتَكَفِينَ (ص: ۸۷) فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ نہیں مانگتا اور نہ میں تکلف سے بات کرنے کا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَأَى قُرَيْشًا عادی ہوں۔رسول اللہ صلی یم نے جب قریش کو اسْتَعْصَوْا عَلَيْهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ أَعِنِّي دیکھا کہ وہ آپ کے مقابل اڑ گئے ہیں تو آپ نے عَلَيْهِمْ بِسَبْعٍ كَسَبْعِ يُوسُفَ فَأَخَذَتْهُمُ یہ دعا کی: اے اللہ ! ان کو مغلوب کرنے کے لئے السَّنَةُ حَتَّى حَصَّتْ كُلَّ شَيْءٍ حَتَّى تو میری مدد سات سال (قحط) سے فرما جو یوسف أَكَلُوا الْعِظَامَ وَالْجُلُودَ وَقَالَ أَحَدُهُمْ کے سالوں کی طرح ہوں۔چنانچہ قحط نے ان کو حَتَّى أَكَلُوا الْجُلُودَ وَالْمَيْتَةَ وَجَعَلَ ایسا آپکڑا کہ اس نے ہر ایک چیز کو فنا کر دیا۔يَخْرُجُ مِنَ الْأَرْضِ كَهَيْئَةِ الدُّخَانِ نوبت یہاں تک پہنچی کہ انہوں نے ہڈیاں اور کھالیں کھائیں۔راویوں میں سے ایک نے کہا: فَأَتَاهُ أَبُو سُفْيَانَ فَقَالَ أَيْ مُحَمَّدُ إِنَّ یہاں تک کہ کھا لیں اور مردار کھائے اور زمین کھالیں قَوْمَكَ قَدْ هَلَكُوا فَادْعُ اللَّهَ أَنْ سے ایک دھواں سا نکلنے لگا۔تب ابوسفیان آپ يُكْشِفَ عَنْهُمْ فَدَعَا ثُمَّ قَالَ تَعُودُوا کے پاس آیا اور کہنے لگا: محمد التمہاری قوم تو ہلاک بَعْدَ هَذَا فِي حَدِيثِ مَنْصُورٍ ثُمَّ قَرَأَ ہوگئی۔اللہ سے دعا کرو کہ ان سے عذاب ہٹائے۔فَارْتَقِبُ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُ خَانٍ مُّبِین آپ نے دعا کی اور آپ نے فرمایا: اس کے بعد پھر إلَى عَابِدُونَ (الدخان: ١١ - ١٦ تم ویسے کے ویسے ہو جاؤ گے۔منصور کی حدیث