صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 55
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۵ ۶۵ - کتاب التفسير / حم الدخان هُذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ ( الدخان: ۱۱، ۱۲) میں دھواں سا دیکھتا۔ پھر (حضرت ابن مسعودؓ نے) حَتَّى بَلَغَ إِنَّا كَا شِفُوا الْعَذَابِ قَلِيلًا یہ آیت پڑھی: پس تو اُس دن کا انتظار کر جس دن إِنَّكُمْ عَابِدُونَ (الدخان: (١٦) قَالَ آسمان پر ایک کھلا کھلا دھواں ظاہر ہو گا۔ جو سب عَبْدُ اللَّهِ أَفَيُكْشَفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ لوگوں پر چھا جائے گا، یہ دردناک عذاب ہو گا یہاں يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ وَالْبَطْشَةُ الْكُبْرَى تک کہ انا کا شِفُوا الْعَذَابِ تک پہنچے۔ یعنی ہم عذاب کو تھوڑی دیر کے لیے ہٹا دیں گے مگر تم يَوْمَ بَدْرٍ۔ پھر وہی (کر تو تیں) کرنے لگ جاؤ گے۔ حضرت عبد اللہ نے کہا: بھلا کیا عذاب ان سے قیامت کے دن بھی ہٹایا جائے گا۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود ) نے کہا: بَطْشَةُ الكُبرى جنگ بدر تھی۔ أطرافه: ۱۰۰۷ ، ۱۰۲۰ ، ٤٦٩٣ ، ٤٧٦٧، ٤٧٧٤، ۴۸۰۹، ٤۸۲۰، ٤٨٢١، ٤٨٢٢، ٤٨٢٤، ٤٨٢٥۔ تشريح : رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ إِنَّا مُؤْمِنُونَ: حضرت خلیفہ السیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ علم دیا گیا تھا کہ سورہ دخان کی پیشگوئیوں کے ظہور کا زمانہ دجال کے ظہور سے تعلق رکھتا ہے۔ (دیکھئے ترجمہ قرآن کریم حضرت خلیفة المسیح الرابع، تعارف سورة الدخان، صفحہ ۸۸۶) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی اللہ تعالیٰ نے متعدد بار دُخان کے متعلق خبر دی ہے۔ ان میں سے ایک الہام ۲۰ جنوری ۱۹۰۶ ء کا یہ ہے: يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ وَتَرَى الْأَرْضَ يَوْمَئِذٍ خَامِدَةً مُّصْفَرَّةٌ (ترجمہ) اس دن آسمان ایک کھلا کھلا دھواں لائے گا۔ یعنی آسمان ایک دُخانی صورت کا عذاب زمین پر نازل کرے گا اور تو زمین کو دیکھے گا کہ ایک مردہ سی ہو گئی ہے اور راکھ کی طرح بن گئی ہے اور اس پر بجائے سر سبزی کے زردی چھا جائے گی۔“ (تذکرہ، صفحہ ۵۰۴) پس ضرورت ہے کہ اس الہی تنبیہ اور انذار سے فائدہ اُٹھایا جائے اور اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بچنے کے لیے اس زمانہ کے حصن حصین کی پناہ میں آیا جائے۔