صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 54
صحیح البخاری جلد ۱۲ ذِكْرُهُ إِنَّا مُنْتَقِمُونَ ۔ ولد ۶۵ - کتاب التفسير / حم الدخان اپنے رب سے دعا کی اور اس نے ان سے عذاب (الدخان : ۱۱ - ۱۷) کو ہٹا دیا اور وہ پھر ویسے ہی ہو گئے۔ اس لئے اللہ نے ان کو جنگ بدر میں سزا دی۔ یہی ہے جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : پس تو اُس دن کا انتظار کر جس دن آسمان پر ایک کھلا کھلا دھواں ظاہر ہو گا۔ اللہ جل ذکرہ کے اس قول تک کہ ہم انتقام لینے پر قادر ہیں۔ أطراف: ۱۰۰۷ ، ۱۰۲۰ ، ٤٦٩۳ ، ٤٧٦٧ ، ٤٧٧٤ ، ۴۸۰۹ ، ۱۸۲۰ ، ٤۸۲۱ ، ٤٨٢٣، ٤٨٢٤، ٤٨٢٥ - بَاب ٤ : أَنَّى لَهُمُ الذِّكْرَى وَقَدْ جَاءَهُمْ رَسُولٌ مُّبِينٌ ( ( الدخان: ١٤) ( یہ فرمانا:) ان کو نصیحت کہاں حالانکہ ان کے پاس ایسا رسول آیا ہے جو کھول کر بیان کرتا ہے الذِّكْرُ وَالذِّكْرَى وَاحِدٌ۔ الذكر اور الذکری (کے معنی) ایک ہی ہیں۔ ٤٨٢٣ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ۴۸۲۳: سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنِ الْأَعْمَشِ جریر بن حازم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنْ مَّسْرُوقٍ قَالَ ، اعمش نے ابوالضحیٰ سے ، ابوالضحیٰ نے مسروق دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں حضرت عبداللہ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا (بن مسعود) کے پاس گیا۔ کچھ دیر بیٹھنے کے بعد دَعَا قُرَيْشًا كَذَّبُوهُ وَاسْتَعْصَوْا عَلَيْهِ انہوں نے کہا : رسول اله های اسلام اللہ صلی علیہم نے جب قریش کو (اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے آپ کو جھٹلا دیا فَقَالَ اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَيْهِمْ بِسَبْعٍ كَسَبْعِ اور آپ کے مقابل پر اڑ بیٹھے تو آپ نے یہ دعا کی: يُوسُفَ فَأَصَابَتْهُمْ سَنَةٌ حَصَّتْ كُلَّ اے اللہ ! ان کو مغلوب کرنے کے لئے سات سال شَيْءٍ حَتَّى كَانُوا يَأْكُلُونَ الْمَيْتَةَ (قط) سے تو میری مدد فرما جو یو یوسف کے سات وَكَانَ يَقُومُ أَحَدُهُمْ فَكَانَ يَرَى بَيْنَهُ سالوں کے سے ہوں۔ چنانچہ اُن پر قحط ایسا پڑا جس وَبَيْنَ السَّمَاءِ مِثْلَ الدُّخَانِ مِنَ الْجَهْدِ نے ہر چیز کو فنا کر دیا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ وہ وَالْجُوعِ ثُمَّ قَرَأَ فَارْتَقِبُ يَوْمَ تَأْتِي مردار کھاتے تھے۔ ان میں سے کوئی کھڑا ہوتا تو السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ يَغْشَى النَّاسَ مارے کمزوری اور بھوک کے اپنے سامنے اور فضا