صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 53 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 53

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۳ ۶۵ - کتاب التفسير / حم الدخان باب : رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ إِنَّا مُؤْمِنُونَ (الدخان: ۱۳) اے ہمارے رب ! ہم سے عذاب ہٹا، ہم ایمان لانے والے ہیں اضي ٤٨٢٢ : حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ۴۸۲۲: یحی بن موسیٰ بلخی) نے ہم سے بیان کیا عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنْ کہ وسیع نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے ، اعمش مَّسْرُوقٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللهِ نے ابو اسی سے سے ، ابوالضحیٰ نے مسروق سے روایت فَقَالَ إِنَّ مِنَ الْعِلْمِ أَنْ تَقُولَ لِمَا لَا کی۔ انہوں نے کہا: میں حضرت عبد اللہ بن مسعود) تَعْلَمُ اللَّهُ أَعْلَمُ إِنَّ اللَّهَ قَالَ لِنَبِيِّهِ کے پاس گیا۔ انہوں نے کہا: علم کی شان یہ ہے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُلْ مَا اسْلُكُمْ کہ تم جس بات کو نہیں جانتے اس کے متعلق یہ کہو : اللہ بہتر جانتا ہے کیونکہ اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ ہم سے عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَن فرمایا: تو کہہ دے کہ میں اس (تبلیغ) پرتم سے کوئی (ص: ۸۷) إِنَّ قُرَيْشًا لَمَّا غَلَبُوا النَّبِيَّ اجر نہیں مانگتا اور نہ میں تکلف سے بات کرنے کا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَعْصَوْا عَلَيْهِ عادی ہوں۔ قریش نے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قَالَ اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَيْهِمْ بِسَبْعٍ كَسَبْعِ بے بس کر دیا اور وہ آپ کے مقابل میں اُڑ گئے۔ يُوسُفَ فَأَخَذَتْهُمْ سَنَةٌ أَكَلُوا فِيهَا آپؐ نے یہ دعا کی: اے اللہ ! ان کو سر کرنے کے الْعِظَامَ وَالْمَيْتَةَ مِنَ الْجَهْدِ حَتَّى جَعَلَ لئے میری مدرسات سال (قط) سے فرما جو یوسف أَحَدُهُمْ يَرَى مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ السَّمَاءِ کے سات سالوں کے سے ہوں۔ چنانچہ ان کو قحط نے آپکڑا جس میں انہوں نے سخت بھوک کی وجہ كَهَيْئَةِ الدُّخَانِ مِنَ الْجُوعِ قَالُوا: رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ إِنَّا سے ہڈیاں اور مردار کھائے۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ ان میں سے کوئی بھوک کے مارے اپنے اور مُؤْمِنُونَ (الدخان: ۱۳) فَقِيلَ لَهُ إِنْ فضاء کے درمیان دھواں سا دیکھتا۔ (اس وقت) كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَادُوا فَدَعَا رَبَّهُ فَكَشَفَ انہوں نے کہا: اے ہمارے رب ! ہم سے عذاب عَنْهُمْ فَعَادُوا فَانْتَقَمَ اللهُ مِنْهُمْ يَوْمَ ہٹا، ہم ایمان لانے والے ہیں۔ آنحضرت صلی الی ام بَدْرٍ فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى يَوْمَ تَأْتِي سے کہا گیا: اگر ہم نے ان سے اس عذاب کو ہٹا دیا السَّمَاءُ بِدُ خَانٍ مُّبِيْنٍ إِلَى قَوْلِهِ جَلَّ تو وہ پھر ویسے کے ویسے ہو جائیں گے۔ مگر آپ نے