صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 53
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۳ -۲۵ کتاب التفسير / حم الدخان باب ۳ : رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ إِنَّا مُؤْمِنُونَ (الدخان: ۱۳) اے ہمارے رب! ہم سے عذاب ہٹا، ہم ایمان لانے والے ہیں ٤٨٢٢ : حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ۴۸۲۲: يبجي ( بن موسیٰ بلٹی) نے ہم سے بیان کیا عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنْ کہ وسیع نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اعمش سے ، اعمش مَّسْرُوقٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ نے ابو الضحی سے ، ابوالضحیٰ نے مسروق سے روایت فَقَالَ إِنَّ مِنَ الْعِلْمِ أَنْ تَقُولَ لِمَا لَا کی۔انہوں نے کہا: میں حضرت عبد اللہ بن مسعود) تَعْلَمُ اللَّهُ أَعْلَمُ إِنَّ اللَّهَ قَالَ لِنَبِيِّهِ کے پاس گیا۔انہوں نے کہا: علم کی شان یہ ہے کہ تم جس بات کو نہیں جانتے اس کے متعلق یہ کہو: صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُلْ مَا اسْلُكُمْ اللہ بہتر جانتا ہے کیونکہ اللہ نے اپنے نبی صلی ا یکم سے عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَ مَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ فرمایا: تو کہہ دے کہ میں اس ( تبلیغ) پر تم سے کوئی (ص: ۸۷) إِنَّ قُرَيْشًا لَمَّا غَلَبُوا النَّبِيُّ اجر نہیں مانگتا اور نہ میں تکلف سے بات کرنے کا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَعْصَوْا عَلَيْهِ عادی ہوں۔قریش نے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قَالَ اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَيْهِمْ بِسَبْعِ كَسَبْعِ بے بس کر دیا اور وہ آپ کے مقابل میں اڑ گئے۔يُوسُفَ فَأَخَذَتْهُمْ سَنَةٌ أَكَلُوا فِيهَا آپ نے یہ دعا کی: اے اللہ ! ان کو سر کرنے کے الْعِظَامَ وَالْمَيْتَةَ مِنَ الْجَهْدِ حَتَّى جَعَلَ لئے میری مددسات سال ( قحط) سے فرما جو یوسف أَحَدُهُمْ يَرَى مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ السَّمَاءِ کے سات سالوں کے سے ہوں۔چنانچہ ان کو قحط كَهَيْئَةِ الدُّخَانِ مِنَ الْجُوعِ نے آپکڑا جس میں انہوں نے سخت بھوک کی وجہ قَالُوا: رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ اِن سے ہڈیاں اور مردار کھائے۔نوبت یہاں تک پہنچی مُؤْمِنُونَ (الدخان: ١٣) فَقِيلَ لَهُ إِنْ کہ ان میں سے کوئی بھوک کے مارے اپنے اور فضاء کے درمیان دھواں سا دیکھتا۔(اس وقت) كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَادُوا فَدَعَا رَبَّهُ فَكَشَفَ انہوں نے کہا: اے ہمارے رب ! ہم سے عذاب عَنْهُمْ فَعَادُوا فَانْتَقَمَ اللهُ مِنْهُمْ يَوْمَ بنا، ہم ایمان لانے والے ہیں۔آنحضرت صلی الی یوم بَدْرٍ فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى يَوْمَ تَأْتي سے کہا گیا: اگر ہم نے ان سے اس عذاب کو ہٹا دیا السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ إِلَى قَوْلِهِ جَلَّ تو وہ پھر ویسے کے ویسے ہو جائیں گے۔مگر آپ نے