صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 52
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۲ ۶۵ - کتاب التفسير / حم الدخان حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اس آیت کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ” اس جگہ دخان سے مراد قحط عظیم و شدید ہے جو سات برس تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارکہ میں پڑا یہاں تک کہ لوگوں نے مُردے اور ہڈیاں کھائی تھیں جیسا کہ ابن مسعود کی حدیث میں مفضل اس کا بیان ہے۔لیکن آخری زمانہ کے لئے بھی جو ہمارا زمانہ ہے اس دخان مبین کا وعدہ تھا اس طرح پر کہ قبل از ظہور میسج نہایت درجہ کی شدت سے اس کا ظہور ہو گا۔اب سمجھنا چاہیے کہ یہ آخری زمانہ کا قحط جسمانی اور روحانی دونوں طور سے وقوع میں آیا۔جسمانی طور سے اس طرح کہ اگر اب سے پچاس برس گذشتہ پر نظر ڈالی جاوے تو معلوم ہو گا کہ۔۔۔کبھی خواب و خیال کی طرح چند روز گرانی غلہ ہوتی تھی اور پھر وہ دن گذر جاتے تھے لیکن اب تو یہ گرانی لازم غیر منفک کی طرح ہے اور قحط کی شدت اندر ہی اندر ایک عالم کو تباہ کر رہی ہے۔اور روحانی طور پر صداقت اور امانت اور دیانت کا قحط ہو گیا ہے اور مکر اور فریب اور علوم و فنون مظلمہ دُخان کی طرح دنیا میں پھیل گئی ہیں اور روز بروز ترقی پر ہیں۔اس زمانہ کے مفاسد کی صورت پہلے زمانوں کے مفاسد سے بالکل مختلف ہے۔پہلے زمانوں میں اکثر نادانی اور امیت رہزن تھی، اس زمانہ میں تحصیل علوم رہزن ہو رہی ہے۔ہمارے زمانہ کی نئی روشنی جس کو دوسرے لفظوں میں دخان سے موسوم کرنا چاہیئے، عجیب طور پر ایمان اور دیانت اور اندرونی سادگی کو نقصان پہنچارہی ہے۔سوفسطائی تقریروں کے غبار نے صداقت کے آفتاب کو چھپا دیا ہے اور فلسفی مغالطات نے سادہ لوحوں کو طرح طرح کے شبہات میں ڈال دیا ہے۔خیالات باطلہ کی تعظیم کی جاتی ہے اور حقیقی صداقتیں اکثر لوگوں کی نظر میں کچھ حقیر سی معلوم ہوتی ہیں۔سو خدائے تعالیٰ نے چاہا کہ عقل کے رہر دوں کو عقل سے درست کرے اور فلسفہ کے سرگشتوں کو آسمانی فلسفہ کے زور سے راہ پر لاوے۔سو یہ کامل درجہ کا دُخان مبین ہے جو اس زمانہ میں ظاہر ہوا ہے۔“ (ازالہ اوہام حصہ دوم، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۷۶،۳۷۵)